قارئین کرام ! عیدالاضحی کا موقع ہے اس مقدس تہوار پر ہر صاحب نصاب شخص اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرتا ہے ۔ اسلام میں اس قربانی کی کیا اہمیت ہے ، اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو نماز کے ساتھ ذکر کیا، جو رأس العبادات ہے، ام العبادات ہے ۔ اللہ تبار ک وتعالی نے سورہ کوثر میں فرمایا ، فصل لربک وانحر ، ' آپ نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ' قل ان صلاتی ونسکی محیای مماتی للہ رب العلمین ،اے نبی ۖ آپ کہہ دیجئے میری نماز ،میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے۔اس معلوم ہوا کہ قربانی کی کتنی اہمیت ہے ۔
دنیا میں سب سے پہلی قربا نی کب ہوئی
قربانی کی ابتدا تو حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے ہو گئی تھی ،لوگ اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے اپنی محبوب ترین چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے تھے ۔ اس کا سب سے پہلا واقعہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں حضرت ہابیل اور حضرت قابیل سے سامنے آیا ، جنہوںنے اللہ کا قر ب حاصل کرنے کیلئے اپنی قیمتی چیزوں کو اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ حضرت ہابیل چونکہ ایک چرواہے تھے ، توا نہوںنے اپنی ایک بہترین اور قیمتی بھیڑ کو قربان کیا اور حضرت قا بیل (دوسرے بیٹے ) چونکہ کاشتکار تھے ، تو انہوں نے گندم کا ڈھیر اللہ کی راہ میں قربان کیا ۔
ان دونوں چیزوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے لئے جب پہاڑ پر رکھا تو آسمان سے ایک آگ آئی اور اس نے حضرت ہابیل نے جو بھیڑ دبح کی تھی اس کے گوشت کو جلادیا اور اس وقت کے دستور کے مطابق مشہور تھا کہ جس چیز کو آگ جلا دے ، سمجھو وہ چیز اللہ کی راہ میں قبول ہو گئی ۔ اس کے بعد قابیل نے ( جس کی قبول نہیں ہوئی) ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کردوں گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن میں یوں بیان کیا ہے ' واتل علیہم نبابنی آدم بالحق اذ قربا قرباناً ، الیٰ آخر الآیۃ۔ تو اس وقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی آدم علیہ السلام کے دور سے چلی آرہی ہے۔ پھر اس کے بعد مختلف ادوار میں ، مختلف صورتوں میں قربانی کا عمل رہا ہے ۔
البتہ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ کو شاہکار اور یادگار کے طور پر جانا جانے لگا اور اس واقعہ کے بعد پوری امت مسلمہ کے ہر صاحب نصاب شخص پر اس کو واجب قرار دیا گیا ۔ حضرت ابراہیم کی یہ سنت بیچ کے زمانے میں نہیں تھی ،اس کو حضرت محمد مصطفیٰ ۖ نے زندہ کیا اور آپ ۖ عید قرباں کے موقع دو دنبے ذبح فرماتے تھے ، ایک اپنے لئے اور ایک اپنی ا مت کے لئے۔ صحابہ کرام نے آپ ۖ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ 'ما ہٰذہ الاضاحی' یہ قربانی کیا ہے؟ تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ' سنة ابیکم ابراہیم' یہ قربانی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، ( انکا طریقہ ہے)
حضرت ابراہیم کی قربانی کا تاریخی اور جذباتی پس منظر
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا پورا ایک باب ہے ، جن میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو مختلف امتحانات اور آزمائشوں میں ڈالا اور وہ اللہ کے فضل وکرم سے ان تمام امتحانات میں کامیاب وسرخ رو ہوئے ۔ میں یہاں اس وقعہ کو تفصیلاً ذکرنا کرانا چاہوں گا، تاکہ یہ اس پورے واقعہ کے جذباتی پہلؤوں کو تصور کرکے ہم حضرت ابراہیم ، ان کی اہلیہ ، اور بیٹے آمائشوں سے بھی آگاہ ہو سکیں۔
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بادشاہ وقت نمرود نے جب آگ میں ڈالا اور اللہ نے انکو آگ سے زندہ اور صحیح سلامت نکال لیا ، تو اس کے بعدانہوںنے اپنی بیگم حضرت سارہ کے ساتھ مصر ، شام یا کنعان کی جانب ہجرت کی ۔ مصرکے بادشاہ نے حضرت ابراہیم سے اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ کا نکاح کرادیا، اس وقت حضرت ہاجرہ کی عمر تقریباً 20-22 سال تھی اور حضرت ابراہیم کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی ۔ اس کے بعد یہ تین افراد (حضرت سارہ حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ )کا قافلہ ہجرت کرکے فلسطین پہنچا ۔ حضرت ابراہیم کو کوئی نرینہ اولاد نہ تھی ، انہوں نے اللہ سے دعا کی رب ہب لی من الصالحین( اے اللہ کوئی نیک اولاد عطا کر ) تو تقریباً 80 سال کی عمر میں اللہ نے تبارک وتعالی نے ان کو بیٹے کی خوشخبری دی، فبشر نٰہ بغلٰم حلیم ۔ اللہ نے ان کو حضرت ہاجرہ ( دوسری بیگم ) سے بیٹا دیا۔ جن کا نام حضرت اسماعیل ہے ۔
اس کے بعد آپ کو حکم ہوا بیت اللہ کی طرف ہجرت کرنے کا۔ آ پ اور آ پ کی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور بیٹا جب بیت اللہ پہنچے تو یہاں سے ایک نئی آزمائش کا دور شروع ہوتا ہے۔ ایک ایسی جگہ پر پہنچنے کے بعد جہاں کوی انسانی علامات نہیں تھی، جہاں نہ دانہ ہے، نہ پانی اور نہ ہی کوئ آبادی،بس چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑہیں- حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنی اہلیہ اور بچے کو یہاں چھوڑکر تنہا واپس تشریف لے جاؤ۔ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو انہو ں نے کچھ نہیں بولا،صرف اتنا ہی کہا حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ لیکن جب ان کو حکم ملا کہ ان کو یہاں چھوڑ دوں، تو کہنے لگے کہ ان کو اس جنگل میں کیسے چھوڑدوں، یہاں کچھ بھی نہیں ، یہ یہاں کیسے رہیں گے۔ حضرت جبرئیل نے کہا کہ آپ کے رب کی منشا یہی ہے، یہاں اللہ کا گھر بنے گا ، یہاں اس بچے کی نسل سے ایک آخری نبی پیدا ہوگا ، جو پورے عالم کو روشن کرے گا -اس کی بعد حضرت ابراہیم اپنے بیٹے اور اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ کو اس وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر چل دیتے ہیں ۔یہ نہ صرف حضرت ابراہیم کا ، بلکہ ان کی اہلیہ اور بہت دعاؤوں اور ارمانوں کے بعد ملے بیٹے اسماعیل سب کا امتحان تھا ۔
جب حضرت ابراہیم جانے لگے توحضرت ہاجرہ نے دریافت کیا ' آپ کہاں جارہے ہیں، آپ خاموش رہے ۔یہ اتنا بڑا امتحان تھا کہ جواب نہیں دینا ، بس چپ کر چلو ، انہوں نے پھر پوچھا ' آپ مجھے چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں'آپ خاموش رہے، پھر پوچھا تو پھر خاموش رہے- چلتے چلتے وہ تین میل تک اس طرح ان کے ساتھ پیدل چلیں ، جب وہ قدئی پہنچیں تو اس وقت ان کو خیال آیا کہ یہ اللہ کے نبی ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ نے حکم دیا ہو۔ انہوں نے پھر پوچھا' اٰ للہ امرک'' کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ مجھے یہاں چھوڑ دیں'، حضرت ابرہیم نے اثبات میں سر ہلایا کہ ہاں، اس پر حضرت ہاجرہ نے کہا ، اذن لن یدیعن اللہ ' کہ جاؤ پھر میرا اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔
حضرت ابرہیم بوجھل دل کے ساتھ اونٹ پر سوار ہوئے او ر حضرت ہاجرہ اپنے بچے کو گود میں لئے کھڑی ان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ یہ کوئی مہینہ یا چند دن کے لئے نہیں جارہے تھے ، پتہ نہیں یہ کب واپس آئیں ، وہ ان کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں ، حضرت ابراہیم کی اونٹنی پہاڑ پر چڑھی اور پھر نیچے اتری،اس کے بعد حضرت ہاجرہ بھی اس وادی کی طرف چلی گئ جہاں وہ ٹہھرے تھے۔ حضرت ابراہیم جب اوجھل ہوئے تو انہوں نے ایک دم اپنی اونٹنی کو اس مقام کی طرف موڑا اور اللہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ' ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم، الی آخرالآیۃ، اے میرے رب میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے جنگل میںچھوڑ دیا جہاں نہ کو ئی آدم زاد ہے، نہ دانہ ہے نہ پانی ، بس تو جان او ریہ جانے ۔اس کے بعد آپ نے منہ موڑا اور چل دئیے۔
قارئین کرام ! ذرا اس باپ کو سوچو اپنے ہر قدم پر اپنے لخت جگر سے دور ہو رہا تھا ، اور اس ماں کو سوچو جو ہر قدم پر اپنے خاوند سے دور ہو رہی ہے ۔ حضرت ابراہیم کی منزل تو پھر بھی آگے گھر ہے ، دو بیویاں اور ہیں ، لیکن ادھر تو پتھروں کے ساتھ دوستی ہے ، چاروں جانب اونچے اونچے پہاڑ ہیں ، سناٹا ہے ، کو ئی آدم زاد نہیں ، اندر والے کو بہار کا پتہ نہیں ، باہر والے کو اندر کی خبر نہیں۔شام ڈھلی ہوگی تو اندھیری رات نے کیا ظلم ڈھایا ہوگا، چاند تارے بھی حیران ہوں گے کہ آج کیا ماجرہ ہے ، ایک معصوم شہزادی ایک معصوم بچے کو گود میں لئے تن تنہا اس جنگل میں بیٹھی ہے اور وہ تنہا جان آسمان کو دیکھتی ہوگی کہ اللہ میرے ساتھ کیا ہو گیا۔ یہ تصور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے کہ اماں ہاجرہ پر وہ پہلی رات کیسے گزری ہوگی۔ جب دن نکلا تو سورج نے کیا قہر برپایا ہوگا ، اس کی تپش نے پہاڑوں کو جلایا ہوگا ، پتھروں کو تپایا ہوگا اور اماں ہاجرہ کو تڑپا کر رکھ دیا ہوگا۔
حضرت ہاجرہ کے پاس ایک پانی کا مشکیزہ تھا ، جس میں سے وہ قطرہ - قطرہ پانی کا پیتی اور اپنے بچے کو پلاتی، اس مشکیزہ پر تین دن گزارے ، اسکے بعد پانی ختم ہوا اور اس جنگل میں دور- دور تک کہیں پانی نہیں ۔ ادھر شدت پیاس سے حضرت اسماعیل بلبلا ر رہے ہیں، ماں سے اپنے لخت جگر کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہوسکی ، تو حضرت ہاجرہ نے بے قراری میں صفا- مروہ کی دوڑ لگائی ، ان کو معلوم تھا کہ یہاں کچھ نہیں ہے ، لیکن وہ اپنے بچے کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ پارہی تھی ، وہ بھاگ کر صفاپر چڑھیں، نیچے اتریں تو بچہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا فوراً واپس لوٹی، پھر بچہ نظرآیا تو آہستہ ہو گئیں ۔ آہ مصر کی شہزادی مکہ کے نوکیلے پتھروں پر دوڑ رہی تھی ۔ وہ پھر مروہ پر چڑھی ، پھر صفا پر چڑھی ، پھرمروہ پر ، پھر صفا پر۔ آخر وہ مروہ پر تھک کر گر گئیں ، ایسا نہیں کہ انہیں سات چکر لگانے تھے ، ساتویں چکر کے بعد ان کی ہمت جواب دے گئی ۔ ان کا دل نہ چاہا کہ بچے کو اپنے سامنے شدت پیاس سے مرتا دیکھوں، اس لئے وہ وہیں پڑی رہیں، لیکن انہوں نے ایک بار بچے کو پلٹ کر حسرت بھری نظروں سے دیکھا کہ تو وہاں ایک آدمی کھڑا تھا ، پھر مردہ جسم میں جان آگئی، پھر وہ اٹھی اور دوڑ لگائی ، بچے کے پاس جاکر دیکھا تو وہ آدمی غائب تھا اور حضرت کی اسماعیل کی ایڑیاں جس جگہ لگ رہی تھیں وہاں پانی ابل رہا تھا ، پانی زیادہ ابلتا دیکھ کر حضرت ہاجرہ نے کہا عبرانی زبان ( اس وقت کی زبان )میں کہا' زمزم ' ٹھہر جا ٹھہر جا ۔تو وہ پانی نیچے چلا گیا ، اللہ کو بھی یہ منظور تھا ۔
ایک سال کے بعد حضرت ابراہیم کو اجازت ملی کہ جاؤ مل کر آؤ،یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جس راستے حضرت ابراہیم کو جاتے ہوئے دیکھا تھا ، اس راستے پر دن میں کتنی بار اما ںہاجرہ کی نظر پڑتی ہوگی ۔ لیکن آج ایک سال کے بعد ان کو اپنے خاوند کا دیدار ہونا تھا ، آج دل بے قرار کو قرار آنا تھا ۔ ایک سال کے بعد حضرت ہاجرہ کو پہاڑی پر اونٹ کا سر نظر آیا،تو دل اچھل کر آسمان کو جا لگا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک آگئی ہے ، میرے سر کا سایہ آگیا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، تو حضرت ہاجرہ نے کہا کہ تشریف لائیے ، جواب ملا کہ اتر نے کا حکم نہیں ہے ، صرف ملاقات ۔ حضرت ہاجرہ نے کہا ' نہ آتے ، صبر آیا ہوا تھا ، صبر توڑ کر پھر جار ہے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اف تک نہ کی ۔
آہ نہ کر ،لبوں کو سی
عشق ہے دل لگی نہیں
سینے پر تیر کھائے جا
آگے قدم بڑھائے جا
یعنی زبان حال سے
کہدے کہ ہاں ستائے جا
حضرت ابراہیم نے اپنے بچے (حضرت اسماعیل) کو گود میں لیا ، سینے سے لگایا ، ان کو پیار کیا ، بہتے آنسو بچے کے رخسارپر گرنے لگے ۔اس ننھے بچے کو پتہ نہیں کون ہے-
اس مختصر ملاقات کے بعد واپس چلے گئے ۔ فلما بلغ ماہ السعی ' جب وہ بچہ بھاگنے دوڑنے لگا ( تھوڑا بڑا ہوا ) ، دل میں اتر گیا ، نظروں کو بھا گیا تو خواب آنے شروع ہو ئے کہ قیمتی چیز قربان کرو ۔اس کے بعد کئی بکریاں قربان کردیں، پھر خواب آیا کہ قیمتی چیز قربان کرو، پھر گائے قربان کردی۔ پھر خواب آیا قیمتی چیز قربان کرو، تو اونٹ قربان کردئیے۔ پھر خواب آیا کہ قیمتی چیز قربان کرو، تو خیال آیا کہ قیمتی چیز سے اسماعیل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد 1500 کلو میٹر ، ایک مہینے کا اونٹ کاسفر، ایک باپ چھری لیکر اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے چلا ہے ۔ ذرا سوچو اس ایک مہینے کے سفر میں ہر سیکنڈ ، ہر لمحہ اس باپ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ، کیا کرنے جارہاہوں ، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے۔ اس باپ کی عمر اب تقریباََ 92 سال ہو چکی ہے ۔ اس بوڑھے باپ کا دل ہر سیکنڈ پھٹتا ہوگا کہ میں اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں سے کیسے ذبح کروں گا ۔
حضرت ابرہیم آئے تو اب اسماعیل نے جانا کہ یہ ہیں میرے ابا۔ حضرت نے اپنی بیگم حضرت ہاجرہ کہا کہ بچے کو تیا ر کرو ،میں آج اس کو سیر پر لیکر جاؤں گا۔حضرت ابراہیم اسماعیل کو لیکر جمرہ کبریٰ پرپہنچے ، جہاں شیطان کو کنکری مارتے ہیں ، وہاں آخری جگہ ۔ وہاں پہنچنے کے بعد کہتے ہیں کہ یبنی انی ار یٰ فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تریٰ،' کہ اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کروں گا ، تو تیری کیا رائے ہے؟ قربان جائے اس ماں پر جس نے سات آٹھ سال کے بچے کو ایسی تربیت دی ہے ، حضرت اسماعیل نے کہا ' یابت افعل بما تؤمر ستجدنی انشاء ا للہ من الصابرین ، اے میرے والد محترم آپ کو جو حکم ملا ہے اس کو بجا لائیں ، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ۔
پھر حضرت اسماعیل کا ذہن ماں کی طرف گیا اور کہنے لگے میری ماں کو بڑی تکلیف ہوگی ، اس لئے انہوںنے اپنا کرتا اتار کر کہا کہ ابا جان یہ کرتا آپ میری ماں کو دے دینا، وہ جب مجھے یاد کرے گی ، میرا کرتا دیکھ لے گی اور آپ مجھے یہیں دفن کرنا ، ادھر نہیں لے جانا اور آپ بھی احتیاط کرنا ، مجھے الٹا لٹا دینا، کہیں مجھے دیکھ کر آپ کو تکلیف نہ ہو۔ ہائے کیسا امتحان ہے ، کیا ہوا ہوگا جب ایک باپ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے اس کے ہاتھ باندھے ہو ں گے ،پاؤں باندھے ہوں گے اور الٹا لٹا کر سر کے بال پکڑ کر نیچے سے گردن پر چھری چلائی ہوگی۔
حضرت ابراہیم نے عرش الٰہی کی طرف دیکھا اور اللہ سے مخاطب ہو کر کیا یا اللہ تو مجھ سے ناراض ہو گیاکہ میرے دل میں اسماعیل زیادہ اتر گیا ، یا اللہ یا کوئی میرا امتحان لے رہا ہے ۔ حضرت اسماعیل کی اس بات پر آسمان کے فرشتے بھی روئے تھے ۔ انسانی تاریخ میں فرشتے دو بار روئے ہیں ۔ ایک اِس موقع پر اور دوسرے جب نبی آخر الزماں ۖ پر طائف کے میدا ن میں کفارنے پتھر برسائے تھے ۔ حضرت ابراہیم نے کہاج کہ یا اللہ تجھ پر سب کچھ قربان ہے ، یہ کہہ حضرت ابراہیم گردن پر چھری چلائی ، لیکن چھری نہیں چلی ، پھر چلائی ، پھرچلائی ،لیکن حکم خداوندی نہیں تھا ۔ کہا جاتا ہے ( کوئی تصدیق نہیں ، تاریخی بات ہے ،ہو بھی سکتا ہے ) کہ حضرت ابراہیم نے چھری کو پتھر پر گھس کر اس کو تیز کیا اور سر کے بال پکڑ کر گردن کے نیچے سے پھر چھری چلائی تو چھری چل گئی اور اس وقت آواز آئی کہ ' ونادینہ ان یاابراہیم ، قد صدقت الرؤیا انا کذالک نجزی المحسنین ، اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھا یا ، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹا کر دیکھا تو سامنے اسماعیل اور حضرت جبرئیل کھڑے ہوئے تھے اور چھری دنبے کی گردن پر چلی تھی ، جو سامنے پڑا ہوا تھا ۔ حضرت ابرہیم ہر امتحان کی طرح اس میں بھی پاس ہو چکے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو قربانی یہ طریقہ اتنا پسند آیا کہ رہتی دنیا تک ہر صاحب نصاب شخص پر اس کو لازم اور واجب قرار دیا گیا ۔یہ قربانی ان کی یادگار ہے ۔
قارئین کرام !اللہ تبارک وتعالیٰ کو اس قربانی سے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ اپنے غلط جذبات کو اللہ کی راہ میں قربان کردو ، اللہ ہم سے کوئی بچوں کی قربانی نہیں مانگ رہا۔ ہم سے اللہ کہہ رہا ہے کہ تمہاری اپنی چیزوں سے محبت اور وہ غلط جذبات جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتے ہیں، ان کو قربان کرو، کیونکہ مال و دولت اور اولاد کی محبت میں انسان اللہ سے غافل ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ یا ایھا لذین آمنوا لاتلہکم امولکم ولا اولادکم عن ذکراللہ ، کہ اے ایمان والوں کہیں ایسا نہ ہو تمہارا مال و اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل کر دے ۔ جس کا م کو اللہ نے کرنے کے لئے کہا اور آپ دل نہیں چاہتا کہ تو اپنے جذبات کو قربان کردو اور اس کام کو بجا لاؤ ، جس کام کے کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے اور آپ کا دل کرتاہے ، اپنے جذبات پر چھری چلاؤ اس کو مت کرو۔ کیونکہ مااحل حلالا ، وحرام حراماً اللہ نے جو چیز حلال کی وہ حلال ہے اورجو حرام کی وہ حرام ہے ۔
شانِ عالم مظفری نگری قاسمی