Latest News

شنکر آچاریہ سوروپانند کا پھوٹا غصہ، کہا- ایودھیا میں رام کا مندر نہیں، وہپ کا دفتر بن رہا ہے

شنکر آچاریہ سوروپانند کا پھوٹا غصہ، کہا- ایودھیا میں رام کا مندر نہیں، وہپ کا دفتر بن رہا ہے

ایودھیا:سوامی سوروپانند سرسوتی  ماگھ میلے میں مونی  اماوسیا اسنان کے لئے ہفتے کے روز پریاگراج پہنچے ۔ منکا میشور مندر میں انہوں نے کہا کہ  ایودھیا میں بھگوان شری رام کا مندر نہیں بن رہا ہے ، بلکہ آنے والے دنوں میں  وہپ(وشو ہندو پریشد )کا دفتر بنے گا ۔ مندروہ بناتے ہیں   جو رام کو مانتے ہیں ۔  انہیں آرادھیا (پیار) مانتے ہیں ۔ رام کو مہا پرش ( عظیم آدمی )نہیں  مانتے ۔
انہوں نے کہا کہ صرف بھگوا پہن کر کوئی سناتن دھرم  کو ماننے والا نہیں بن جاتا ۔ پریاگراج میں دو مہا پرشوں کے ساتھ  بھگوان رام کی مورتی رکھی گئی تھی ۔  بھگوان رام مہا پرش نہیں ، بھگوان ہیں۔  شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند نے شری رام جنم بھومی تیرتھ  چھیتر ٹرسٹ کے قیام پر بھی سوال اٹھایا۔
 انہوں نے کہا کہ اس میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جو زندگی بنا سکے۔  ہم نے جو ٹرسٹ بنایا تھا ، اس میں   ہندو (مذہب) نمائندے تھے ۔ اس میں شنکرآچاریہ کے علاوہ ، رامانندآچاریہ اور اکھاڑوں کے  ممبرز بھی تھے ، لیکن  موجودہ ٹرسٹ  میں ایسے لوگوں کو رکھا گیا ہے  ، وہ پران پرتشٹھا کیا کرائیں گے ۔ ہمارا مقصد تھا کہ وہ  آرادھنا  کا استھل(عبادت گاہ ) بنے   نہ کہ وہاں پر آندولن کی باتوں کو لکھا جائے ۔ شنکرآچاریہ نے بھی  پیسے اکٹھے کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پیسے لے لیتے ہیں لیکن اس کا حساب نہیں دیتے  ہیں ۔ سونے کی اینٹ کے لئے جو پیسہ لیا گیا تھا ، اس کا حساب کہاں ہے ۔
کسان تحریک پر ، شنکرآچاریہ نے کہا کہ حکومت کو اس کا فوری حل تلاش کرنا چاہئے۔ کسانوں کا پانی روکا جارہا ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے؟ نوٹ بندی، کسان بل لا کر حکومت صرف یک طرفہ فیصلہ کر رہی ہے ۔ جمہوریت میں عوام کے فیصلے کو راجا  سنتا ہے۔  آج  راجا  کا فیصلہ  لوگوں کو  قبول کرنا پڑ رہا ہے ۔
 



Comments


Scroll to Top