اسلام آباد:پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتارپور کوریڈور کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور عاجزی کی زندگی بسر کر رہے سابق بھارتیہ وزیر اعظم کی تعریف کی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے منموہن سنگھ کے بارے میں بات کی( جو کی ان کے پاس بیٹھے تھے) شاہ محمود قریشی نے اس وقت کو یاد کیا، جب وہ ان (منموہن سنگھ) سے ملے تھے۔ ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ منموہن سنگھ کے گھر گئے تھے۔انہیں اس دوران چائے پلائی گئی۔اس ویڈیو میں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ' 'میں آپ کے گھر آیا۔بیگم صاحبہ نے چائے بنائی، منموہن سنگھ صاحب خود اپنے ہاتھوں سے لے کر آئے۔اور میں واپس آیا اور میں نے لوگوں کو یہ کہانی سنائی۔میں نے کہا منموہن ایک بڑے آدمی ہیں''۔تاہم، اس دوران ایک ایسی بات ہوئی کہ شاہ محمود کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس ویڈیو کو پاکستانی صحافی نائلہ عنایت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئرکیا۔اس ویڈیو میں شاہ محمود قریشی نے جیسے ہی کہا کہ ' میں آپ کے گھر آیا۔بیگم صاحبہ نے چائے بنائی، منموہن سنگھ صاحب خود اپنے ہاتھوں سے لے کر آئے۔اسی دوران منموہن سنگھ کی بیوی گورشرن کور نے پوچھ ڈالا کہ آپ (شاہ محمود قریشی)کب آئے تھے ہمارے گھر ؟، اس پر قریشی رکے اور سوچا پھر کہا کہ 90 کی دہائی میں آیا تھا۔اسے لے کر سوشل میڈیا پر لوگوں نے قریشی کا مذاق بنایا۔اتنا ہی نہیں لوگوں نے قریشی کے چائے والے بیان پر ان کی تنقید بھی کی۔
قابل ذکر ہے کہ منموہن سنگھ اور ان کی اہلیہ گورشرن کور ہفتہ کو طویل الانتظار کوریڈور کھولے جانے کے بعد کرتارپور کے گورودوارہ دربار صاحب میں زیارت کرنے کے لئے گئے تھے۔وہ کرتارپور صاحب جانے والے پہلے جتھے میں شامل تھے۔بتا دیں کہ کرتارپور کوریڈور کے راستے پاکستان جانے والے 550 سے زیادہ عقیدتمندوں کے پہلے جتھے میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ، مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل، ہردیپ پوری، سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل، اداکار اور ممبر پارلیمنٹ سنی دیول کے علاوہ پنجاب کے رہنما اور رکن اسمبلی شامل ہوئے تھے۔