National News

بھارت کے پڑوس میں بڑھاجنگ کا خطرہ ، امریکی حملے کے بعد دوسرا ایرانی جنگی جہاز پہنچا سری لنکا کے قریب

بھارت کے پڑوس میں بڑھاجنگ کا خطرہ ، امریکی حملے کے بعد دوسرا ایرانی جنگی جہاز پہنچا سری لنکا کے قریب

انٹرنیشنل ڈیسک: مڈل ایسٹ میں چل رہی جنگ اب بحرِ ہند تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی آبدوز کے ذریعے ایران کے ایک جنگی جہاز کو ڈبونے کے ایک دن بعد دوسرا ایرانی جنگی جہاز سری لنکا کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے علاقائی کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے جہاز کو سکیورٹی دینے کے لیے سری لنکا سے درخواست کی ہے کہ اسے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہونے دیا جائے۔
امریکی حملے میں ڈوبا ایرانی جنگی جہاز۔
بدھ کے روز بحرِ ہند میں امریکی آبدوز نے ایران کے جنگی جہاز IRIS Dena پر ٹارپیڈو سے حملہ کیا تھا۔ یہ جہاز ایران واپس جا رہا تھا اور اس سے پہلے بھارت میں منعقد ہونے والی بحری مشق میں شامل ہوا تھا۔ یہ مشق وِشاکھاپٹنم میں ہوئی تھی۔ حملے میں کم از کم 87 ایرانی بحری اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ تقریباً 32 افراد کو بچا لیا گیا۔ کئی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سری لنکا حکومت نے ہنگامی اجلاس کیا۔
اس معاملے کو لے کر سری لنکا کے صدر انورا کمارا دِسانائیکے نے سینئر حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا۔ سری لنکا نے جمعرات کو کہا کہ ایک اور ایرانی جہاز نے اس کے آبی حدود میں داخل ہونے کی اجازت مانگی ہے اور اس سلسلے میں وہ مناسب قدم پر غور کر رہا ہے۔ سری لنکا ابھی تک اس جنگ میں غیر جانبدار مو¿قف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حکومت نے صرف دونوں فریقوں سے تحمل برتنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سری لنکا ایران کے جہاز کو اپنے آبی حدود میں آنے کی اجازت دے گا یا نہیں۔
دوسرا ایرانی جہاز بھی خطرے میں۔
اب ایران کا ایک اور جنگی جہاز سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب پہنچ گیا ہے۔ جہاز پر تقریباً 100 سے زیادہ بحری اہلکار سوار بتائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کے عملے کو ڈر ہے کہ امریکہ اسی طرح حملہ کر سکتا ہے جیسے اس نے پہلے جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران نے اسی لیے سری لنکا سے درخواست کی ہے کہ اسے سکیورٹی کے لیے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہونے دیا جائے۔
ایران نے بدلے کی وارننگ دی۔
امریکی حملے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے سمندر میں کیا گیا ظلم قرار دیا اور بدلہ لینے کی قسم کھائی۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ایران کی فوجی یونٹ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے خلیج فارس میں ایک امریکی تیل بردار ٹینکر پر حملہ کر دیا جس سے اس میں آگ لگ گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بحرِ ہند میں ایسے حملے جاری رہے تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔ یہ علاقہ بھارت، سری لنکا اور دیگر ایشیائی ممالک کے لیے انتہائی اسٹریٹیجک ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی فوجی ٹکراو سے بین الاقوامی تجارت اور سمندری سکیورٹی پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top