National News

امن مذاکرات کے دوران روس کا خوفناک حملہ، کیف اور خارکیف میں مچی تباہی، ایک ہلاک ، 23 زخمی

امن مذاکرات کے دوران روس کا خوفناک حملہ، کیف اور خارکیف میں مچی تباہی، ایک ہلاک ، 23 زخمی

کیف: ایک طرف جہاں متحدہ عرب امارات میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے اہم امن مذاکرات جاری ہیں، وہیں دوسری طرف روس نے یوکرین کے شہروں پر بمباری تیز کر دی ہے۔ ابو ظہبی میں دوسرے دن کی میٹنگ سے ٹھیک پہلے روس نے کیف اور خارکیف پر ڈرونز سے بڑا حملہ کیا، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا اور 23 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
دارالحکومت کیف اور خارکیف نشانہ بنے۔
کیف فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ دارالحکومت پر ہونے والے ڈرون حملوں سے بھاری نقصان ہوا ہے، جہاں ایک شہری کی جان چلی گئی۔ دوسری جانب، خارکیف کے میئر ایگور تیریکھووف کے مطابق روسی ڈرونز نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس میں 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ابو ظہبی میں جاری ہے ”اہم مشاورت“۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی قیادت میں یوکرین اور روس کے نمائندے ابو ظہبی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔ وائٹ ہاو¿س نے پہلے دن کی بات چیت کو ”مثبت“ قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس مکالمے کے ذریعے تقریباً چار سال سے جاری اس خونی جنگ کا کوئی سیاسی حل نکل سکتا ہے۔
زیلنسکی کا بڑا بیان، ”معاہدہ تقریباً تیار“۔
حال ہی میں داووس میں یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ امن معاہدہ تقریباً تیار ہے، لیکن علاقائی مسائل اور زمینی حقوق کے حوالے سے کچھ حساس پہلو اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس مذاکرات کے دوران حملے تیز کر کے یوکرین پر دباو¿ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top