نرسنگھ پور: عقیدے اورآستھا کے نام پر پاکھنڈ ، ڈھونگ اور عصمت فروشی کا کھیل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سڑک سے لے کر بڑے عالیشان آشرموں تک ، اپنے اپنے طریقے سے عقیدے اور آستھا کو بیجا اور خریدا جارہا ہے۔ایسا ہی ڈھونگ کا کھیل رچنے والا نام نہاد بابا ایک بار پھر سر خیوں میں ہے۔ جی ہاں ،مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں نندیہ بلہرا میں بابا دھرم دیو عرف دھرمیندر دوبے نام کے ایک اور جعلی بابا کا سیکس سکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔

دھرمیندر داس خود کو ہنومان کا اوتار کہتا تھا ۔جب وہ کچھ دن پہلے گانجے کی تسکری میں پکڑا گیا تو لگا کہ بات یہیں ختم، لیکن اس کے بعد جب پولیس جانچ میں اس کا موبائل پولیس کے ہاتھ لگا تو ایک نہیں کئی ایسی فحش ویڈیو اس میں ملیں، جو وہ اپنے ڈیرے پر خواتین کے ساتھ بناتا تھا ۔در اصل ہر منگل اور ہفتے کے روز یہ اپنا دربار سجا کر اپنی نوٹنکی سے لوگوں کو لبھاتا تھا۔ذرائع کے مطابق یہ با با بیوی کو قابو کرنے کے معاملے میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا ۔

فریادی شوہر کو خاص تعویذ اور خاص طرح کا پرساد دے کر اس کو بھرم میں ڈال دیتا تھا ۔ ایسے درجنوں معاملات ہیں جن میں اس نے کئی پریواروں میں الجھن اور بھرم کے حالات پیدا کئے ہیں ۔ گھریلو اور خاندانی جھگڑے سے پریشان افراد پانچ منگل - ہفتہ کو مسلسل اس کے دربار میں دستک دیتے تھے۔ ان کی جانکاری اسکے شاگرد دھرمیندر داس کودیتے تھے۔ اس کے بعد خاص طرح کا پرساد ان بھکتوں کو دیا جاتا تھا ، جو سوچنے اور سمجھنے کی طاقت کو ختم کر دیتا تھا ۔

کہتے ہیں کہ پاپ کا گھڑا ایک نہ ایک دن بھر کر پھوٹ ہی جاتا ہے ۔ اس ڈھونگی بابا دھرم دیو عرف دھر میندر دوبے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دھرم دیو کا اصلی چہرہ تب سامنے آیا جب ا س کے اپنے ہی موبائل سے بنالی گئی فحش ویڈیو سامنے آئی ۔ اس کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے گناہوں کے ثبوت خود اپنے ہی موبائل میں جمع کر رہا ہے ۔ پولیس کو مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ ڈھونگی بابا گانجا کی تسکری کرتا ہے ، جیسے ہی پولیس کو اس بابا کی جانکاری ملی ویسے ہی پولیس نے اس کے آشرم میں تلاشی لی اور 2 کلو گانجے کے ساتھ اس کو گرفتار کر لیا۔

گرفتاری کے بعد جب پولیس نے اس کا موبائل چیک کیا تو پولیس کو جو ملا اس سے سب کے ہوش اڑ گئے ، جی ہاں، ایک نہیں متعدد ایسی ویڈیوز پولیس کے ہاتھ لگیں جن میں یہ ڈھونگی بابا خواتین کی عصمت دری کر رہا ہے ۔ بھگوا چولا پہن کر آستھا کی آڑ میں پروچن کے بہانے یہ ڈھونگی بابا پرساد کے نام پر کوئی نشیلی شے پلا کر لڑکیوں کو پھنسا کر ا نکی عصمت دری کرتا تھا یا۔ دراصل ، اس ڈھونگی بابا کا اصلی چہرہ رات میں نظر آتا تھا ، جب بابا کا لباس اتار کر تنگ جینس ، نئے فیشن کی ٹی شرٹ ، ہاتھوں میں مہنگا موبائل اور مہنگی کار سے رات کے اندھیرے میں جسم فروشی کا کھیل کھیلتا تھا ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بابا کاایسا گندہ چہرہ سامنے آیا ہو۔ یہاں ہر موڑ پر طرح طرح کے بابا لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ ہندوستان میں باباؤں کی تعداد مسلسل تیزی سے بڑھ رہی ہے۔چاند تک اپنی رسائی کرنے والا ہندوستان اب تک ان ڈھونگی باباؤں کی دلدل سے باہر نہیں نکل سکا۔ ایسے میں سوال اٹھتے ہیں کہ کیا اس طرح ہم ترقی کر پائیں گے ؟ کیا اب یہ جہالت کا اندھیرا نہیں چھنٹنا چاہئے ؟ یہ بھی سچ ہے کہ ہر سنت اور بابا ایسا نہیں ہے، لیکن آج کل سامنے آرہے ڈھونگی باباؤں اور سنتوں کی وجہ سے سچے اور اچھے سنتوں کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔