Latest News

کارنی کے بھارت دورے میں پنجاب درکنار، قصور وار کون ؟

کارنی کے بھارت دورے میں پنجاب درکنار، قصور وار کون ؟

کینیڈین مفادات کی قربانی دینے کو بے تاب خالصتانی، سری ( کینیڈا ) - کینیڈا کے  پردھان منتری مارک کارنی نے اپنے دورہ بھارت کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ بھارت میں ممبئی اور نئی دہلی میں تاجروں اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جہاں کینیڈا اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور توانائی کے معاہدوں پر بات چیت کی جائے گی۔
کینیڈا اور بھارت کے درمیان 2010 سے جاری سی ای پی اے فری ٹریڈ معاہدے کی دو طرفہ بات چیت کو بھی حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ بھارت کے ساتھ ساتھ کارنی آسٹریلیا اور جاپان کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔کارنی کا یہ دورئہ بھارت اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ پچھلے چند برسوں کے دوران بھارت اور کینیڈا کے تعلقات بد سے بدتر ہو گئے تھے، لیکن کارنی نے ان تعلقات کو دوبارہ درست سمت پر لانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
انہوں نے انتخابی مہم کے دوران ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کے پردھان منتری کو جی 7 سر براہی اجلاس، جو کینا سکس(کینیڈا)میں منعقد ہوا تھا، کا دعوت نامہ بھیج کر کارنی نے یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ خالصتانی دھڑوں اور ان کے حمایتی میڈیا کے دباؤ میں آنے والے نہیں اور ان کے اقدامات صرف کینیڈا اور کینیڈین عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر ہی آگے بڑھیں گے۔
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی کوئی کینیڈین پردھان منتری بھارت جاتا تھا تو اس دورے میں پنجاب بھی ایک پڑاؤ ہوتا تھا، چاہے وہ جو ہن کرسچن ہوں، سٹیفن ہار پر یا جسٹن ٹروڈو۔ پال مارٹن کے سوا تقریبا تمام وزرائے اعظم اپنے دورئہ بھارت کے دوران پنجاب گئے۔  لیکن اس بار کارنی کے دورے کی تفصیلات سے واضح ہو چکا ہے کہ پر دھان منتری پنجاب میں قیام نہیں کریں گے۔ اس فیصلے نے کینیڈا میں مقیم پنجابی برادری میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ جب اس بارے میں پردھان منتری کے دفتر کے عملے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مارک کارنی کا دورہ معاشی اور سیاسی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے اور ثقافتی امور میں وہ اکثر کینیڈا میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں۔
ان سب کے باوجود پنجابی اور سکھ برادری میں اس بات پر کچھ مایوسی پائی جا رہی ہے، لیکن آج جب پنجاب بین الاقوامی رہنماؤں کے ایجنڈے سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے تو سکھ اور پنجابی برادری کو مل بیٹھ کر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب کے حاشیے پر جانے کا ذمہ دار کون یا کون سی قوت ہے۔پنجابی برادری نے گزشتہ سو برس سے زائد عرصے میں کینیڈا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے اور معاشرے کے ہر شعبے میں نام کمایا ہے۔
 پنجابی برادری سیاسی طور پر بھی کینیڈا میں خاصی مضبوط ہے لیکن گزشتہ چار دہائیوں سے فرقہ وار خالصتانی دھڑوں کی طرف سے چلائی جانے والی نفرت کی مہم پنجاب اور پنجابیت کی دشمن بن کر سامنے آئی ہے۔جتنا نقصان ان تقسیم پیدا کرنے والی قوتوں نے پنجاب، پنجابیت اور عالمی پنجابی برادری کو پہنچایا ہے شاید ہی کسی اور تنظیم یا نظریے نے پہنچایا ہو۔  کارنی کے پردھان منتری بننے کے بعد پنجابی نژاد چند ارکان پارلیمنٹ، جو خالصتانی دھڑوں کے حامی ہیں یا ان سے ووٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کارنی کی مخالفت شروع کر دی تھی، چاہے وہ پردھان منتری مودی کا کینیڈا جی 7 کا دورہ ہو یا بھارت کے ساتھ سیاسی اور سکیورٹی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوئی بھی کوشش ۔ ان لوگوں نے ہر قدم پر کینیڈین پردھان منتری اور حکومت کو گھیرنے اور بدنام کرنے کی کوشش کی اور کینیڈین مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک خاص گروہ کے نفرت انگیز ایجنڈے کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
جس سے پوری پنجابی برادری شرمندہ ہوئی اور حکومت کی نظر میں پنجابی برادری سے جڑے مسائل متنازع بن گئے ۔  اب ایسے حالات میں کون سی حکومت یا کون سا رہنما یہ چاہے گا کہ کوئی تنازع اس کی حکومت کے گلے پڑ جائے؟
مختصر یہ کہ ان نام نہاد خالصتانی تنظیموں نے نفرت میں اندھی ہو کر سکھوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور سکھوں کو دنیا بھر میں نفرت کا نشانہ بنا دیا ہے۔ آج بھی دنیا بھر کی پنجابی برادری کو ان چالوں کو سمجھنا چاہئے کہ یہ خالصتانی تنظیمیں اور ان کا حمایتی میڈیا سکھوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات اور دیگر جیو پولیٹیکل قوتوں کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔
 ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے پنجاب کا بیانیہ خود اپنے ہاتھ میں لیں اور دنیا کو یہ بتائیں کہ خالصتانی تنظیمیں سکھوں اور پنجابیوں کی نمائندگی نہیں کرتیں ۔ پنجابی لوگ دنیا میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور پنجاب کو ملک اور دنیا میں ترقی کی مثال کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک پنجاب دنیا کے ساتھ تعاون اور باہمی احترام کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہ چلے۔ پنجاب کو فرقہ وارانہ اور متنازع بنا کر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں نا قابل برداشت ہیں۔
منندر سنگھ گل ( منیجنگ ڈائریکٹر، ریڈیو انڈیا، سری کینیڈا) 
 



Comments


Scroll to Top