National News

روسی خفیہ سروس ایس وی آر کا انکشاف: برطانیہ اور فرانس یوکرین کو ایٹمی ہتھیار دینے کی تیاری میں، کہا -نتائج نہایت سنگین ہوں گے

روسی خفیہ سروس ایس وی آر کا انکشاف: برطانیہ اور فرانس یوکرین کو ایٹمی ہتھیار دینے کی تیاری میں، کہا -نتائج نہایت سنگین ہوں گے

ماسکو: روس یوکرین جنگ کے درمیان ایک نہایت سنگین اور تشویش ناک دعویٰ سامنے آیا ہے۔ روس کی خفیہ سروس فارن انٹیلی جنس سروس کے مطابق برطانیہ اور فرانس مل کر یوکرین کو ایٹمی ہتھیار دینے کی تیاری میں ہیں۔ کریملن سے وابستہ سلامتی کونسل کے نائب صدر دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر یوکرین کو اس کے مغربی اتحادیوں سے ایٹمی ہتھیار یا متعلقہ ٹیکنالوجی ملتی ہے تو اس کے نہایت سنگین نتائج ہوں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسی صورت میں روس یوکرین کے ان ٹھکانوں پر غیر اسٹریٹیجک ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا جنہیں وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس معاملے پر سابق را ایجنٹ اور این ایس جی کمانڈو لکشمن عرف لکی بشٹ نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کر کے معاملے کی سنگینی پر تشویش ظاہر کی ہے۔


ایس وی آر کے مطابق برطانیہ اور فرانس یوکرین کو مبینہ طور پر ونڈر وافے دینے کی منصوبہ بندی پر غور کر رہے ہیں۔ اس میں ایٹمی صلاحیت یا کم از کم ڈرٹی بم جیسی ٹیکنالوجی شامل ہو سکتی ہے۔ روسی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ روایتی فوجی طاقت کی بنیاد پر یوکرین کے لیے روس پر فیصلہ کن فتح حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے مغربی ممالک نئے اور خطرناک متبادل پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ایٹمی عدم پھیلاو کے معاہدے این پی ٹی کی خلاف ورزی کے خطرے کو لے کر وہ محتاط بھی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمنی نے اس طرح کی کسی پہل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ فروری 2022 سے جاری روس۔یوکرین جنگ پہلے ہی عالمی سیاست اور معیشت پر گہرا اثر ڈال چکی ہے۔ ایسے میں اگر ایٹمی ہتھیاروں یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کا الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف جاری امن کوششوں کو دھچکا دے گا بلکہ پوری عالمی سلامتی کے نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ فی الحال فرانس، برطانیہ یا یوکرین کی جانب سے ان الزامات پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ صورتحال نہایت حساس بنی ہوئی ہے اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔



Comments


Scroll to Top