انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں جہاں ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناو¿ کے درمیان بھارت نے سفارتی سطح پر اپنی سرگرمی بڑھا دی ہے۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی اور تناو¿ کم کرنے اور امن بحال کرنے پر زور دیا۔ ساتھ ہی بھارت میں تعینات ایرانی سفیر سے ملاقات کر کے حالات پر گفتگو کی۔ نریندر مودی نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کر کے حالات پر تبادلہ خیال کیا اور تناو¿ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق وزیر اعظم نے صاف کہا کہ خطے میں امن بحال کرنا بے حد ضروری ہے اور تمام فریقوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی اہم رہا۔ بھارت نے اس اہم سمندری راستے کو کھلا محفوظ اور آسان رکھنے پر زور دیا کیونکہ یہ عالمی توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے سری لنکا کے انورا کمارا دسانائیکے سے بھی بات کی۔ دونوں رہنماو¿ں نے مغربی ایشیا کے بحران کے عالمی توانائی تحفظ پر اثر اور سمندری راستوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ضرورت پر گفتگو کی۔
اس دوران بھارت کے وزیر خارجہ نے بھارت میں تعینات ایران کے سفیر سے ملاقات کی اور موجودہ حالات پر بات چیت کی۔ انہوں نے بحران کے دوران بھارتی شہریوں کی مدد کے لیے ایران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
حکومت نے بتایا کہ وزارت خارجہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ خلیج اور مغربی ایشیا میں رہنے والے بھارتیوں کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اس کے لیے 24 گھنٹے کنٹرول روم اور ہیلپ لائن فعال ہیں۔ اب تک تقریباً 4.26لاکھ بھارتی شہری 2149پروازوں کے ذریعے بھارت واپس آ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور عمان سے پروازیں جاری ہیں تاہم کویت اور بحرین کی فضائی حدود میں کچھ پابندیاں برقرار ہیں۔ مجموعی طور پر بھارت اس بحران میں متوازن سفارت کاری اپناتے ہوئے امن سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر پوری توجہ دے رہا ہے۔