National News

پی آئی اے فروخت ہونے کے بعد بھی نقصان کا سودا! پاکستانی ٹیکس دہندگان پرپڑا 644 ارب روپے کا بوجھ

پی آئی اے فروخت ہونے کے بعد بھی نقصان کا سودا! پاکستانی ٹیکس دہندگان پرپڑا 644 ارب روپے کا بوجھ

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ( پی آئی اے) کے سال 2025 میں نجکاری نے اگرچہ ایئر لائن کے روزانہ ہونے والے نقصان کو روک دیا ہو، لیکن اس کی اخلاقی اور اقتصادی قیمت پاکستان کے ٹیکس دہندگان کو ادا کرنی پڑی ہے۔ یہ دعویٰ ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع رپورٹ کے مطابق حکومت کا یہ دعویٰ کہ عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے PIA کا 75 فیصد حصہ 135 ارب پاکستانی روپے میں خریدا، گمراہ کن اور بھرم پیدا کرنے والا ہے۔رپورٹ کے مصنف اور پاکستان کے سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر خان کا کہنا ہے کہ اس سودے کی ساخت ایسی ہے کہ 135 ارب روپے میں سے زیادہ تر رقم حکومت تک پہنچتی ہی نہیں۔
ان کے مطابق پاکستان حکومت کو حقیقی فروخت قیمت کے طور پر صرف 10.125 ارب روپے ملیں گے۔ باقی 124.875 ارب روپے فروخت کے بعد ایئر لائن میں ڈالے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خریدار گروپ نے اپنی جائیداد کی قیمت میں الگ سے 80 ارب روپے سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے، جس سے حکومت کو کوئی براہِ راست فائدہ نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ PIA کوبیچنے کے قابل بنانے کے لیے حکومت نے پہلے ہی 654 ارب روپے کے قرضے اپنے اوپر لے لیے تھے۔ ان سب کو ملا کر حکومت نے دراصل تقریباً 644 ارب روپے خرچ کر کے ایئر لائن سے چھٹکارا پایا۔ ڈاکٹر زبیر خان نے اسے نقصان میں کی گئی نجکاری قرار دیا، جس کا مقصد صرف مستقبل میں دی جانے والی سبسڈی کو روکنا تھا۔
رپورٹ میں حکام کے ریوالوِنگ ڈور کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ حکومت نے تجارتی قرض کو 12 فیصد مقررہ سود پر خودمختار ضمانت والے بانڈ میں تبدیل کر دیا، جس سے بینکوں کو PIA کے مستقبل سے بالاتر یقینی منافع حاصل ہو گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر نیو یارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل ایک ارب ڈالر میں بھی فروخت ہو جائے، تو وہ صرف سود کی ادائیگی کے لیے کافی ہوگا، جبکہ اصل رقم کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر ہی رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق اگر ہوٹل کی دوبارہ ترقی میں آٹھ سال لگتے ہیں، تو حکومت کو اس دوران 256 ارب روپے اضافی سود دینا ہوگا، جس سے جائیداد کی قیمت بننے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔
                
 



Comments


Scroll to Top