National News

پاکستان کا ’سرنڈر‘: اسرائیل کی ایک پھٹکارکے بعد وزیر دفاع کوہٹانا پڑا پوسٹ

پاکستان کا ’سرنڈر‘: اسرائیل کی ایک پھٹکارکے بعد وزیر دفاع کوہٹانا پڑا پوسٹ

انٹرنیشنل ڈیسک: پاکستان میں منعقد ہونے والے ‘اسلام آباد مذاکرات’ سے عین پہلے ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھاری سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے ملی سخت وارننگ کے بعد خواجہ آصف کو اسرائیل کے خلاف کیا گیا اپنا متنازع سوشل میڈیا پوسٹ حذف کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
کیا تھا متنازع بیان؟
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر اسرائیل کو ‘انسانیت کے لیے لعنت’ قرار دیا تھا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب پاکستان خود کو عالمی امن کی کوششوں میں ایک فعال کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیل کا جارحانہ رویہ۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس تبصرے پر انتہائی سخت اعتراض درج کرایا۔ اسرائیل نے اسے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان ہرگز قابل قبول نہیں ہے، خاص طور پر اس ملک کی جانب سے جو خود کو امن مذاکرات میں ایک ‘غیر جانبدار ثالث’ کے طور پر پیش کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
دباو میں پاکستان: امن پسندکی شبیہ کو دھچکا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی سرنڈر جیسا ہے۔ اس کے پیچھے کے اہم اسباب درج ذیل ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات:پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی ملک سے تنازع مول لینا اس کی میزبانی پر سوال اٹھا سکتا ہے۔
عالمی دباو: وزیر دفاع کی جانب سے پوسٹ حذف کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کسی بڑے دباوکا مقابلہ کر سکے۔
عزت کا سوال:خود کو ایک ذمہ دار امن پسندکے طور پر ثابت کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو اس سخت ردعمل نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین کی رائے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اس وقت علاقائی امن عمل میں خود کو ایک متوازن کردار کے طور پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے اعتراض کے فوراً بعد حکومت نے نقصان پر قابو پانے کے لیے متنازع پوسٹ کو ہٹوا دیا۔



Comments


Scroll to Top