نیویارک: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں دو طرفہ ملاقات کے دوران ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت کے ساتھ ساتھ توانائی، جوہری تعاون، دفاع، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ بدھ کو پہلی اہم معدنیات کی وزارتی میٹنگ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔
جے شنکر اس میٹنگ میں شرکت کے لیے امریکہ کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ سے ملاقات بہت بامعنی رہی اور دو طرفہ تعاون، علاقائی اور عالمی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، جوہری، دفاع، اہم معدنیات اور ٹیکنالوجی کو ہندوستان امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم ستونوں کے طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اہم معدنیات کی تلاش، کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو باضابطہ شکل دینے پر خاص زور دیا۔ اسے مستقبل کی توانائی سلامتی اور ٹیکنالوجی سپلائی چین کے لیے اہم مانا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جے شنکر اور روبیو نے کواڈ کے ذریعے دو طرفہ اور کثیر جہتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کو دوہرایا۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خوشحال اور مستحکم ہند بحرالکاہل خطہ ہندوستان اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے کے تحت امریکی جوابی محصولات 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیے جائیں گے، جسے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔