National News

اب کڑوے فیصلے ہی تراشیں گےہماچل کا مستقبل

اب کڑوے فیصلے ہی تراشیں گےہماچل کا مستقبل

 نیشنل ڈیسک :ہماچل سمیت 17 ریاستوں میں مرکزی حکومت کی خصوصی دریا دلی یعنی ریونیو خسارہ گرانٹ (آر۔ڈی۔جی۔) ختم ہونے کے بعد اب وقت آ گیا ہے جب ریاستی حکومتیں آر۔ڈی۔جی۔ سے آگے کا سوچیں، خاص طور پر ہماچل جیسے چھوٹے سے ریاست کو۔ مالی نزاکت کو سمجھتے ہوئے موجودہ کانگرس حکومت کے وزیر اعلیٰ نے اقتدار سنبھالتے ہی کچھ فیصلوں کے کڑوے گھونٹ پی لیے تھے، تاکہ خزانے میں کچھ بہتری ہو سکے، لیکن یہی کام پہلے رہ چکی بی جے پی یا کانگریس حکومتوں نے کر لیا ہوتا تو اس بدحالی کی نوبت نہ آتی۔
خیر، اب آر۔ڈی۔جی۔ بند ہو چکی ہے، پچھلی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرض کا اعداد و شمار ایک لاکھ کروڑ سے تجاوز کر چکا ہے، جس کا سود ادا کرتے کرتے کسی بھی جماعت کی حکومت کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔ دوسرے اقتصادی مسائل بھی ہیں جن پر موجودہ کانگرس حکومت انگاروں پر چل رہی ہے۔ اس لیے اب آر۔ڈی۔جی۔ سے آگے قدم بڑھانے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کا وقت ہے اور اس بحران کی گھڑی میں سرکاری ملازمین کو ہی سپاہی بن کر چلنا ہوگا تاکہ غیر سرکاری عوام بھی خود کو بہتر حالت میں لا سکیں۔ اس لیے مفت کی اسکیموں سے ہٹ کر ترقی کے نئے مواقع کو جلد حاصل کرنا اور سخت فیصلے لینا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ ورنہ ریاست کا آگے چل پانا یعنی بنیادی کاموں کا ہونا بھی دشوار ہوگا۔

بہرحال اصلاحات کا پٹارا فوری اثر سے سکھو سرکار کو شروع کرنا چاہیے۔ اس میں پہل منتخب نمائندوں سے ہی کرنی چاہیے، جنہیں ہر مدت کی الگ پنشن ملتی ہے اور کچھ کچھ وقفے کے بعد تنخواہیں اور الاو¿نس بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر ہر بار کے انتخابی گوشواروں میں بعض کی کروڑوں کی بھاری بڑھوتری دیکھی گئی ہے۔ دوسرا، اگر پنشن کے معاملے میں ذمہ داری خاصی بڑھ گئی ہے تو اس موضوع پر نظرثانی کرنا بھی ایک عملی فیصلہ ہو سکتا ہے، کیونکہ پنشن اور بقایا جات سے بھی ریاست کے خزانے کو بہت بڑی چوٹ پہنچ رہی ہے۔ اس موضوع میں اپوزیشن کو بھی سیاست سے دور عملی نقطہ نظر رکھنا ہوگا کیونکہ گزشتہ برسوں کی ریاست کی قرض حالت، تنخواہوں، بقایا جات اور ڈی جی پی کے ساتھ سبھی حکومتوں کے فیصلوں پر غور کریں تو کوئی ایک جماعت یا پارٹی خاص طور پر کٹہرے میں کھڑی نہیں ہوتی بلکہ سبھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں سبسڈی پر مبنی سیاست سب نے کی۔ قرض سب نے لیے۔ آمدنی کے اصلاحات کی کمی ہر سطح پر رہی۔ حقیقت میں ہماچل بغیر مرکز کی مدد کے خود تیزی سے ترقی اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ یہ پہاڑی ریاست ہے۔
پریم کمار دھومل کا دو مدت کا دور حکومت رہا۔ اب تمام وزرائے اعلیٰ کے سال 2000 کے بعد کے اندازاً قرض کے اعداد و شمار اپنے آپ میں کافی کچھ بیان کرتے ہیں۔ پریم کمار دھومل نے 14000 کروڑ روپے کا قرض لیا، ویربھدر سنگھ کے دو ادوار میں 21500 کروڑ روپے، جے رام ٹھاکر کے ایک دور میں 22000 کروڑ روپے جو کورونا دور تھا، اور سکھویندر سنگھ سکھو کے تین سال کے دور میں اندازاً 18000 کروڑ روپے جو آفت کا دور تھا قرض لیا گیا۔ اس طرح سکھو سرکار میں پچھلی حکومتوں کا لیا ہوا قرض سمیت ملا کر قریب ایک لاکھ کروڑ ہو گیا۔ ایسے میں آر ڈی جی کا بند ہونا بھی آسمانی آفت ہی ہے۔
یہ المیہ ہے کہ سب کو معلوم تھا کہ حالات خراب ہو رہے ہیں۔ سی اے جی نے بھی واضح کر دیا تھا کہ عدم توازن تیزی سے بڑھ رہا ہے اور آمدنی سست ہے۔ انکم ٹیکس کم ہے تب قرض لینا پڑا۔ یعنی خرچ بڑھا مگر آمدنی نہیں۔ جو قرض لیا گیا وہ تنخواہ اور پنشن پر گیا، بنیادی ڈھانچے کی ترقی نہیں ہوئی۔ ہر حکومت کے وقت سبسڈی کا بوجھ ریاست کو اٹھانا پڑا۔ پریم کمار دھومل کے وقت پانچواں اور چھٹا تنخواہ کمیشن نافذ کیا گیا۔ بجلی اور کسانوں کی سبسڈی، نئے منڈل اور ذیلی منڈل کھولنا، قرض پر مبنی ترقی کا ماڈل بنا۔ ویربھدر نے بڑے پیمانے پر سرکاری بھرتیاں کر دیں۔ سماجی پنشن میں توسیع، بورڈ اور کارپوریشن خسارے میں رہے۔ جے رام ٹھاکر نے بجلی کی 125 یونٹ مفت کی، کورونا دور میں ادھار بڑھا، آمدنی گر گئی، تنخواہ کمیشن کے بقایا جات ملتے رہے۔ سکھو سرکار میں او پی ایس نے بڑا جھٹکا دیا۔ قرض پر قرض دیتے رہے اور دو بڑی آفات میں بازآبادکاری پر بھاری خرچ ہوا۔ او پی ایس اس وقت قرض لینے کی صلاحیت کو 1800 کروڑ کم کر دیتا ہے کیونکہ یہ مخصوص فنڈ ہوتا ہے۔ یہی جھٹکا اس حکومت کو لگا۔

ویسے تشویش کی بات یہ ہے کہ ریاست کی ترقی کی شرح بھی خاص بہتر نہیں ہو رہی۔ سال 2005-06 میں یہ 10 فیصد تھی جو 2011-12 میں 7 فیصد ہو گئی۔ 2018 میں 6 فیصد اور 2019 میں 4 فیصد پر آ گئی۔ آج ریاست کی جی ڈی پی ہمارے ملک کی جی ڈی پی سے نیچے چل رہی ہے۔ ادھر دوسری طرف 11ویں مالیاتی کمیشن نے ریاست کو 4549 کروڑ کی اندازاً خسارہ بھرپائی آر ڈی جی دی، 12ویں کمیشن نے 10202 کروڑ، 13ویں مالیاتی کمیشن نے 19300 کروڑ، 14ویں کمیشن نے 40624 کروڑ، 15ویں کمیشن نے 4 برسوں کے لیے یعنی 2024 تک 37199 کروڑ دیے ہیں۔ اس میں سکھو سرکار کے اب تک کے اقتدار کے سال شامل ہیں جو قریب 17000 کروڑ بنتے ہیں۔ ریاست کو 5 سال میں اندازاً 50000 کروڑ آر ڈی جی ملتا تھا جو اب بند ہو گیا۔ یہ ہماچل جیسی ریاست کے لیے بہت بڑی راحت تھی۔ اس تناظر میں اب ہماچل کو بالکل ویسے ہی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا جیسے بھارت خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لیے سبسڈی اور پنشن کو قربان کر کے ہر ہماچلی کو ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنا چاہیے۔ شروعات سیاسی جماعتوں سے کی جانی چاہیے۔
 ڈاکٹر رچنا گپتا۔
 

                



Comments


Scroll to Top