انٹرنیشنل ڈیسک: جنوبی کوریا کے ایک اہم تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے اعلیٰ ترین رہنما کم جونگ ان کی سلامتی سے متعلق اعلیٰ عہدیداروں کو تبدیل کر دیا ہے۔سیﺅل میں قائم وزارتِ اتحاد کے مطابق، کم کی سلامتی کے ذمہ دار تین بڑے حفاظتی ڈھانچوں یعنی ورکرز پارٹی کے گارڈ آفس، اسٹیٹ افیئرز کمیشن کے گارڈ ڈیپارٹمنٹ اور گارڈ کمانڈ کے سربراہان کو ہٹا دیا گیا ہے۔وزارت نے ان تبدیلیوں کی درست تاریخ یا وجہ واضح نہیں کی، لیکن کہا کہ اکتوبر 2025 میں ورکرز پارٹی آف کوریا کی 80ویں سالگرہ پر منعقدہ فوجی پریڈ کے دوران نئے عہدیداروں کی موجودگی سے اس رد و بدل کا اشارہ ملا۔
عہدیداروں کے مطابق، اتنے کم عرصے میں سکیورٹی سربراہان کا بدل جانا غیر معمولی اور توجہ کھینچنے والا ہے۔اسی دوران، شمالی کوریا کے اعلیٰ فوجی رہنما ری پیونگ چول کو بھی حکمران پارٹی کے ملٹری سینٹرل کمیشن کے نائب چیئرمین کے عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس کے بعد پارٹی پولٹ بیورو کے پریزیڈیم کے اراکین کی تعداد پانچ سے کم ہو کر چار رہ گئی ہے۔اب اس فوجی کمیشن میں صرف پاک جونگ چون نائب چیئرمین کے طور پر باقی ہیں۔سیاسی ہلچل کے درمیان، کم جونگ ا±ن حال ہی میں روس یوکرین جنگ میں مارے گئے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے بنائے جا رہے یادگاری میوزیم کی تعمیر گاہ پر پہنچے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، کم نے ان فوجیوں کی قربانی کو ملک کی طاقت کی “لامحدود بنیاد” قرار دیا۔اس موقع پر ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی جو اے بھی ان کے ساتھ نظر آئیں۔شمالی کوریا پہلی بار بیرونِ ملک مارے گئے فوجیوں کے لیے کوئی سرکاری میوزیم بنا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، پیونگ یانگ نے روس کی حمایت میں دس ہزار سے زیادہ فوجی اور ہتھیار بھیجے ہیں، جن میں سے ہزاروں کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔یہ پیش رفت شمالی کوریا کے اندرونی سلامتی خدشات، فوجی حکمتِ عملی اور عالمی اتحادوں کو ایک ساتھ بے نقاب کرتی ہے۔