National News

اسرائیل۔ایران جنگ کے درمیان نیتن یاہو کا دعویٰ، حملوں میں ایران کا سینئر جوہری سائنس دان مارا گیا، مجتبیٰ کے لیے لائف انشورنس نہیں

اسرائیل۔ایران جنگ کے درمیان نیتن یاہو کا دعویٰ، حملوں میں ایران کا سینئر جوہری سائنس دان مارا گیا، مجتبیٰ کے لیے لائف انشورنس نہیں

انٹرنیشنل ڈیسک: : بنجا من نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی میں ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ ایک اہم سائنس دان کی موت ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں سے ایران کے فوجی اور حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فوجی ٹھکانوں اور حفاظتی دستوں کو بنایا گیا نشانہ۔
نیتن یاہو کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے کئی اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اس کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب اور بسیج جیسے اداروں سے وابستہ ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ یہ ادارے ایران کے حفاظتی نظام اور حکومتی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایرانی قیادت پر بھی نشانہ۔
میڈیا سے گفتگو میں بنجا من نیتن یاہو نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایرانی قیادت دباو¿ میں ہے اور عوامی طور پر سامنے آنے سے گریز کر رہی ہے۔ نیتن یاہو نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل مستقبل میں مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے آئندہ فوجی حکمتِ عملی کے بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں بتایا۔
ایرانی عوام کو دیا گیا پیغام۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں ایران کے عوام کو بھی مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آخرکار ایران کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو ہی کرنا ہو گا۔
امریکہ کے ساتھ رابطے کا دعویٰ۔
نیتن یاہو نے بتایا کہ اس پورے معاملے کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی رابطہ قائم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ڈونالڈ ٹرمپ سے باقاعدہ بات چیت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حکمتِ عملی پر مبنی تعاون جاری ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے سے روکنا ہے۔
ایران کی جانب سے سرکاری ردِعمل نہیں۔
ان دعوو¿ں پر فی الحال ایران کی جانب سے کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ایرانی قیادت نے اپنے پیغام میں حملوں کا جواب دینے کی بات دہرائی ہے۔ ساتھ ہی ایران کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ اگر کچھ شرائط پوری ہوتی ہیں تو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔



Comments


Scroll to Top