National News

سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی گرفتاری کے تیسرے دن بھی نیپال میں مظاہرے جاری

سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی گرفتاری کے تیسرے دن بھی نیپال میں مظاہرے جاری

انٹرنیشنل ڈیسک: نیپال میں گزشتہ تین دنوں سے سیاسی حالات انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی گرفتاری کے خلاف آج مسلسل تیسرے دن بھی مظاہرے جاری رہے۔ یہ گرفتاری گزشتہ سال جنریشن زیڈ کے مظاہروں کو بے رحمی سے دبانے کے الزامات کے تحت کی گئی ہے۔
نئی بننے والی بالن شاہ حکومت نے اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں گزشتہ سال8 اور 9ستمبر کو ہونے والی تحریک کی تحقیقاتی رپورٹ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک پر الزام ہے کہ انہوں نے اس تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس میں76 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
نیپال پولیس اور منی لانڈرنگ تحقیقاتی محکمہ نے ملک کے3 بڑے رہنماوں کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں جن میں شیر بہادر دیوبا۔ کے پی شرما اولی۔ اور پشپا کمل دہل پرچنڈ کے نام شامل ہیں۔ یہ تحقیقات سابق وزیر دیپک کھڑکا کی گرفتاری کے بعد تیز ہوئی ہیں۔ کھڑکا پر الزام ہے کہ اس نے توانائی کے وزیر رہتے ہوئے لائسنس اور ٹھیکے دینے کے بدلے بھاری رقم لی تھی۔ تحقیقات کے دوران ان رہنماوں کے گھروں سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ٹکڑے ملے تھے جن کی فرانزک جانچ میں تصدیق ہو چکی ہے۔
پیر کی صبح کھٹمنڈو کے نواں بانیشور علاقے میں سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں کے پی اولی کو فوری رہا کرو اور بدلے کی سیاست بند کرو جیسے پوسٹر تھے۔ اتوار کو ہونے والے مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے تاہم آج کا مظاہرہ کچھ پرامن رہا۔


 



Comments


Scroll to Top