انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں شدید تناؤ کے درمیان ایران سے ایک تاریخی اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران کی ماہرین کی مجلس نے بدھ کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔
اسلامک ریوولیوشنری گارڈز کور (IRGC ) کا دباؤ اور آن لائن اجلاس
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق مجتبی خامنہ ای باون برس کے ہیں اور ان کا انتخاب طاقتور اسلامک ریوولیوشنری گارڈز کور (IRGC ) کے شدید دبا ؤمیں کیا گیا ہے۔ موجودہ جنگی حالات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی مجلس کا مکمل اجلاس براہ راست منعقد کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے یہ تاریخی فیصلہ آن لائن اجلاسوں اور اندرونی مشاورت کے ذریعے کیا گیا۔ سکیورٹی نظام میں مجتبیٰ کی مضبوط گرفت نے انہیں اس منصب کا سب سے مضبوط امیدوار بنا دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبی خامنہ ای آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور درمیانی درجے کے شیعہ عالم دین ہیں۔ اگرچہ وہ طویل عرصے تک پردے کے پیچھے رہے ، لیکن انقلابی گارڈ اور بسیج ملیشیا جیسے سکیورٹی اداروں پر ان کا گہرا اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔
تقرری پر اٹھتے سوالات اور تنازع
مجتبیٰ کی تقرری نے ایران کے اندر اور باہر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب بادشاہت اور موروثی جانشینی کے خلاف تھا۔ مجتبیٰ کا انتخاب کئی سخت گیر حلقوں کو بادشاہت کی واپسی جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ مجتبیٰ کا مذہبی درجہ سپریم لیڈر بننے کے لیے ضروری معیار سے کم سمجھا جا رہا ہے۔
علی خامنہ ای کی ہلاکت اور جانشینی کا بحران
یاد رہے کہ 28 فروری2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی ایران میں قیادت کے حوالے سے بحران پیدا ہو گیا تھا۔ اس دوران اقتدار ایک تین رکنی عبوری کونسل کے پاس تھا جس میں صدر، چیف جسٹس اور نگہبان کونسل کے فقیہ شامل تھے۔ اب مجتبیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران کی خارجہ اور فوجی پالیسیوں میں سخت گیری مزید بڑھ سکتی ہے۔