انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے صدر مسعود پیزیشکیان نے کہا ہے کہ علاقائی فوجی کارروائی کے بارے میں ان کے پہلے دیے گئے بیان کو دشمنوں نے غلط طریقے سے پیش کیا۔ ریاستی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ' دی ٹائمز آف اسرائیل' نے بتایا کہ پیزیشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھائی چارے کے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
پیزیشکیان نے کہا کہ ایران بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو بھائی سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جواب دینا مجبوری ہو گا۔
ہفتہ کو ایک ٹیلی ویژن خطاب میں پیزیشکیان نے کہا تھا کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک ان ممالک کی طرف سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہم پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہیں۔ ہمارا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ بغیر شرط ہتھیار ڈال دے۔ اس پر پیزیشکیان نے جواب دیتے ہوئے کہا وہ ہمارے ہتھیار ڈالنے کا خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ بھی کہا تھا کہ ایران میں نئی قیادت آنے کے بعد ہی کوئی معاہدہ ممکن ہے۔
جنگ کے درمیان اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کی رات بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسی سے زیادہ لڑاکا طیاروں نے تقریبا 230 بم گرائے۔ ان حملوں میں ایران کی بیلسٹک میزائل فیکٹری اور فوجی تربیتی اداروں جیسے ٹھکانے نشانے پر رہے۔
ان حملوں کے جواب میں اسلامی انقلابی محافظ دستہ نے آپریشن سچا وعدہ چار (OTP4 ) کے23 ویں مرحلے کا اعلان کیا۔ اس دستے کے مطابق اس دوران نئی نسل کے میزائلوں سے اسرائیل اور علاقے میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔