انٹر نیشنل ڈیسک :مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی جنگ کی آگ اب خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بھارتی شہریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے۔ پیر کی صبح سویرے کویت کے ایک بجلی اور پانی کے پلانٹ پر ایرانی حملے میں ایک بھارتی ملازم ہلاک ہو گیا۔ اس تازہ واقعے کے بعد اس جنگ میں جان گنوانے والے بھارتیوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔ جس سے بھارت میں ان کے خاندانوں اور حکومت کی تشویش مزید گہری ہو گئی ہے۔
کویت کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ۔
کویت کی بجلی اور پانی کی وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ وزارت نے اسے ایک گناہ آلود ایرانی حملہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حملے میں پلانٹ کی ایک سروس عمارت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تاہم واقعے کے فوراً بعد فنی اور ہنگامی ٹیموں کو کام پر لگا دیا گیا تاکہ بجلی اور پانی کی فراہمی پر کوئی برا اثر نہ پڑے اور نظام جاری رہے۔
نہیں رک رہااموات کا سلسلہ۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی بھارتی کو اس جنگ کا نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ گزشتہ جمعرات کو متحدہ عرب امارات میں ابو ظہبی کے اوپر روکی گئی ایک بیلسٹک میزائل کے ملبے کی زد میں آ کر ایک بھارتی شہری ہلاک ہو گیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس بڑی جنگ میں اب تک کل آٹھ بھارتی اپنی جان گنوا چکے ہیں جبکہ ایک ابھی تک لاپتا ہے۔ بھارتی سفارت خانہ مسلسل وہاں کی انتظامیہ کے رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے تناو سے خلیجی خطہ لرز اٹھا۔
یہ پورا بحران تقریباً پانچ ہفتے پہلے اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ مذاکرات کی بات کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چھ اپریل تک دس دن کے لیے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملے روک دیں گے۔ جبکہ ایران نے خبردار کیا کہ اگر اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ ہوا تو وہ خلیجی خطے میں توانائی کے ڈھانچوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی مو¿ثر طور پر بند کر دیا ہے۔ جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً بیس فیصد کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے۔ جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس دوران ٹرمپ انتظامیہ نے خطے میں امریکی بحریہ کے اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور مزید ہزاروں فوجیوں کو بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کیونکہ اس تنازع میں کمی آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔