واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنیوا میں ہونے والے اہم جوہری مذاکرات سے پہلے ایران کو سخت اور وارننگ بھرا پیغام دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اس اعلی سطحی مذاکراتی عمل میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت بے حد اہم ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ایران چاہے ایک مشکل مذاکرات کار ہو، لیکن اس کی قیادت کمزور رہی ہے۔ انہوں نے کہا، اگر وہ صحیح وقت پر معاہدہ کر لیتے تو ہمیں ان کے جوہری ٹھکانوں پر بی 2 طیارے بھیجنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی کارروائی نے پورے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بدل دیا اور ایران کو دوبارہ سفارت کاری کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آگے ایران زیادہ سمجھداری دکھائے گا، کیونکہ معاشی اور سیاسی دباؤ اسے مذاکرات کی میز پر لا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطی کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کہیں کہیں تناؤ ضرور دکھ سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر خطے میں امن قائم ہے۔ انہوں نے کہا، آپ کہیں کہیں آگ کے شعلے دیکھ سکتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر مشرقِ وسطی میں امن ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم نے جوہری صلاحیت پر بی- 2 حملہ کیا۔
ٹرمپ نے حالیہ فوجی مہم آپریشن 'مڈنائٹ ہیمر' کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر ایران ایک مہینے کے اندر جوہری ہتھیار بنا لیتا۔ اس آپریشن کے تحت امریکہ نے ایران کے تین بڑے جوہری ٹھکانوں فورڈو(Fordow) ، نطنز (Natanz ) اور اصفہان (Isfahan ) کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے پہلے اپریل 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کے مسقط اور اٹلی کے روم میں جوہری مذاکرات کے دور ہوئے تھے، لیکن جون 2025 میں فوجی حملوں کے بعد حالات مکمل طور پر بدل گئے۔
ایران نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اب فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں ملک ایک بار پھر جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے منگل کو جنیوا میں ملنے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، امریکہ کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔