National News

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا۔ ایران جنگ پر اختلافات کے باعث سینئر عہدیدار نے دیا استعفیٰ

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا۔ ایران جنگ پر اختلافات کے باعث سینئر عہدیدار نے دیا استعفیٰ

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کی قومی سلامتی کے نظام میں ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے۔ انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ قدم ایران کے ساتھ جاری جنگ کی مخالفت میں اٹھایا۔
ایران سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں۔
جو کینٹ نے اپنے استعفے میں صاف کہا کہ ایران سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ جنگ اسرائیل کے دباو اور اس کی امریکی لابی کی وجہ سے شروع کی گئی۔
انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو لکھے اپنے خط میں کہا۔ میں اچھے ضمیر کے ساتھ ایران میں جاری اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ ایران ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ صاف ہے کہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباو میں شروع کی گئی۔
جنگ میں بیوی کو کھو چکے ہیں کینٹ۔
جو کینٹ نے اپنے خط میں ذاتی درد بھی بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک سابق فوجی ہیں اور گیارہ بار جنگ میں تعینات رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیوی شینن کو ایسی ہی ایک اسرائیل کی بنائی ہوئی جنگ میں کھو دیا تھا۔ میں ایک ایسا شوہر ہوں جس نے اپنی بیوی شینن کو جنگ میں کھویا۔ میں اگلی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتا جس سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہ ہو اور جس میں ہمارے لوگوں کی جانیں جائیں۔
ٹرمپ کے حامی رہے اب دی صلاح۔
جو کینٹ پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کے بڑے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے دو ہزار سولہ دو ہزار بیس اور دو ہزار چوبیس کے انتخابات میں ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ جون دو ہزار پچیس تک ٹرمپ سمجھتے تھے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں امریکہ کے لیے جال ہیں جو ملک کے وسائل اور فوجیوں کی جان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ٹرمپ کو غلط معلومات دے کر جنگ میں دھکیلا گیا۔
کینٹ نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کو غلط معلومات دے کر اس جنگ میں شامل کیا گیا۔
ان کے مطابق اسرائیل کے بڑے عہدیداروں اور امریکی میڈیا کے بااثر لوگوں نے مل کر ایک ایسا ماحول بنایا۔ اس ماحول نے ٹرمپ کو یہ یقین دلایا کہ ایران بڑا خطرہ ہے اور اگر ابھی حملہ کیا جائے تو جلد کامیابی مل سکتی ہے۔ کینٹ نے کہا۔ یہ مکمل طور پر جھوٹ تھا۔ یہی طریقہ پہلے بھی استعمال کیا گیا تھا جب ہمیں عراق کی جنگ میں دھکیلا گیا جہاں ہزاروں امریکی فوجیوں کی جان گئی۔
ٹرمپ سے اپیل کی فیصلے پر دوبارہ سوچیں۔
اپنے استعفے کے آخر میں جو کینٹ نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ پر دوبارہ غور کریں۔انہوں نے لکھا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ سوچیں کہ ہم ایران میں کیا کر رہے ہیں اور کس کے لیے کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس اسے بدلنے کا موقع ہے۔ آپ نیا راستہ چن سکتے ہیں یا ملک کو مزید بحران میں جانے دے سکتے ہیں۔
کیوں اہم ہے یہ استعفیٰ۔

  • یہ استعفیٰ امریکہ کی سلامتی ایجنسی کی اعلیٰ سطح سے آیا ہے۔
  • اس سے امریکہ ایران اسرائیل جنگ پر سنجیدہ سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔
  • ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی دباو¿ بڑھ سکتا ہے۔


Comments


Scroll to Top