انٹر نیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا کے ملک قطر نے ایک بڑا سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کے لیے آمد پر ویزا کی سہولت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان اس وقت سخت سفری پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے وہیں دوسری طرف بھارت اور قطر کے مضبوط ہوتے تعلقات کا اثر واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ جنگ جیسے عالمی حالات کے باوجود قطر نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا کے قواعد میں نرمی برقرار رکھی ہے۔
پاکستانیوں کے لیے لازمی ہوا پہلے سے ویزا لینا
قطر میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے منگل کے روز ایک سرکاری سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے اس تبدیلی کی تصدیق کی ہے۔ سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ اب پہلے سے حاصل شدہ ویزا کے بغیر قطر پہنچنے والے پاکستانی مسافروں کو ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ سفارت خانے نے اس فیصلے کی وجہ موجودہ علاقائی حالات اور قطر کی داخلی سلامتی کی صورتحال کوبتایا ہے۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر کی منصوبہ بندی سے پہلے سرکاری ویب سائٹوں سے معلومات حاصل کریں اور قطری ویزا مراکز سے رابطہ کریں۔
بھارتیوں کے لیے خوش آمدید کی پالیسی برقرار
ایک طرف جہاں پاکستان کے لیے قواعد سخت ہوئے ہیں وہیں بھارت کے ساتھ قطر کے تعلقات مزید مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ 28 فروری 2026سے قطر حکومت نے ان تمام داخلہ ویزوں کی مدت خودکار طور پر 30 دن کے لیے بڑھا دی تھی جو ختم ہونے کے قریب تھے۔ یہ خصوصی سہولت ان بھارتی شہریوں کو دی گئی تھی جو پہلے سے وہاں موجود تھے۔
بھارتیوں کے لیے موجودہ شرائط
قطر آج بھی بھارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو30 دن کے لیے مفت داخلے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کے لیے قواعد پہلے کی طرح آسان ہیں۔
پاسپورٹ کی مدت کم از کم چھ ماہ تک کارآمد ہونی چاہیے۔
سفر کے لیے واپسی یا اگلے سفر کا تصدیق شدہ ٹکٹ لازمی ہے۔
مسافروں کے پاس لازمی صحت بیمہ ہونا چاہیے۔
قیام کے لیے درست ہوٹل بکنگ کی تصدیق ضروری ہے۔
سفارتی اثرات
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سلامتی سے متعلق تعلقات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی کم ہوتی ساکھ اور بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت بھی ہے۔ جنگ اور علاقائی کشیدگی کے دوران بھی بھارتیوں کے لیے ان سہولتوں کا بلا رکاوٹ جاری رہنا نئی دہلی اور دوحہ کے درمیان مضبوط اعتماد کو نمایاں کرتا ہے۔