National News

ٹرمپ کا نیا بیان: امریکی عوام شاید ایران کے ساتھ برداشت نہ کر سکیں طویل جنگ، لوگ جلد فتح اور واپسی چاہتے ہیں

ٹرمپ کا نیا بیان: امریکی عوام شاید ایران کے ساتھ برداشت نہ کر سکیں طویل جنگ، لوگ جلد فتح اور واپسی چاہتے ہیں

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ کے لوگوں میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کو مزید چلانے کا صبر ہے یا نہیں۔ امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر وائٹ ہاوس میں ایسٹر سے متعلق دوپہر کے کھانے کے دوران ان کے نجی تبصرے سے اشارہ ملتا ہے کہ صدر پر جنگ ختم کرنے کے لیے اندرونی دباوبڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بہت آسانی سے ایران کے تیل کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکی عوام میں اس کے لیے صبر دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا لوگ اس جنگ کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک کے لوگ کہتے ہیں بس فتح حاصل کرو۔ تم بہت بڑی کامیابی کے قریب ہو۔ صرف جیت کر واپس آ جاو۔

انہوں نے کہا مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کی اس تقریر کی ویڈیو بزنس انسائیڈر کے ایک رپورٹر نے آن لائن جاری کی۔ رپورٹر کے مطابق وائٹ ہاوس نے بند کمرے میں ہونے والے اس پروگرام کی ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جسے بعد میں نجی کیے جانے سے پہلے محفوظ کر لیا گیا۔ اس ویڈیو کو ہٹانے کی وجہ پر وائٹ ہاوس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نجی دعوت کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین جاپان اور جنوبی کوریا کو آبنائے ہرمز کھولنے میں شامل ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی ٹرمپ نے شمالی بحر اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے اتحادیوں پر ناراضگی ظاہر کی تھی کیونکہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی مکمل ہونے تک اس آبنائے کی حفاظت میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے تھے۔
بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس نجی دعوت کے دوران ٹرمپ نے بعض ایشیائی ملکوں پر بھی ناراضگی ظاہر کی جو امریکہ کے مقابلے میں خلیجی ملکوں کے تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس موقع پر نیٹو کو بہت خراب اتحادی اور کاغذی شیر بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا نیٹو نے ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اسے یاد رکھنا چاہیے کیونکہ اگر ہمیں کبھی ان کی ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ ایسا ہی کریں گے۔ امید ہے ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا اگر کبھی کوئی بڑی جنگ ہوئی تو نیٹو ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔



Comments


Scroll to Top