Latest News

ہرمز کے قریب پہنچا بڑا ایل پی جی ٹینکر''گرین سانوی'' ، 46 ہزار ٹن گیس لے کر پہنچے گا ممبئی، 17 ہندوستانی جہاز اب بھی پھنسے

ہرمز کے قریب پہنچا بڑا ایل پی جی ٹینکر''گرین سانوی'' ، 46 ہزار ٹن گیس لے کر پہنچے گا ممبئی، 17 ہندوستانی جہاز اب بھی پھنسے

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں جاری تناؤ کے درمیان ہندوستان  کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ گرین سانوی نام کا ایک بڑا ایل پی جی ٹینکر 46,655 میٹرک ٹن گیس لے کر سٹریٹ آف ہرمز عبور کرنے کے قریب ہے۔ امید ہے کہ یہ جہاز 6 اپریل تک ممبئی پہنچ جائے گا، جس سے ملک میں کوکنگ گیس کی کمی کا سامنا کرنے والے لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ سرکاری حکام کے مطابق، یہ جہاز ہرمز کے شمالی حصے سے گزر رہا ہے اور محفوظ ٹرانزٹ کے عمل میں ہے۔ اس سے پہلے بھی 'جگ وسنت' اور 'پائن گیس' جیسے6  جہاز ہندوستان  پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے مل کر تقریبا 92,000 ٹن ایندھن کی سپلائی دی تھی۔

BREAKING 🚨

🇮🇷 🇮🇳 Iran has allowed the 7th Indian LPG tanker Green Sanvi to cross the Strait of Hormuz. The vessel is now en route to India.

🇺🇸 🇮🇱 🇮🇷 Amid tensions with the U.S. and Israel, Iran continues allowing select non-hostile vessels. pic.twitter.com/ZVANmnHOEZ

— FalconUpdatesHQ (@FalconUpdatesHQ) April 4, 2026


تاہم صورتحال ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے۔ ہندوستانی  بحریہ کے مطابق، 'گرین آشا' اور 'جگ وکرم' جیسے دیگر جہاز ابھی بھی محفوظ راستے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بحریہ ان جہازوں کو مرحلہ وار نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، خاص طور پر ان جہازوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو ضروری ایندھن لے کر آ رہے ہیں۔ اسی دوران، 'بی ڈبلیو ٹائر' جہاز پہلے ہی ممبئی پہنچ چکا ہے اور سمندر میں ہی اپنا مال اتار رہا ہے، جبکہ 'بی ڈبلیو ایلم' (BW ELM) کو ایننور بندرگاہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے، جہاں اس کے 4 اپریل تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق، ابھی بھی تقریبا 17 ہندوستانی جہاز فارس کی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ عمان کی خلیج، عدن کی خلیج اور لال سمندر میں بھی ہندوستانی جہاز موجود ہیں۔ ان جہازوں پر ہزاروں بھارتی نوابیک تعینات ہیں، جن میں سے کئی کو محفوظ باہر نکالا جا چکا ہے۔ ہندوستان حکومت ایک طرف ایران سے سفارتی بات چیت کر رہی ہے، تو دوسری طرف ہندوستانی بحریہ جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔ ہرمز کا کھلنا اب صرف تجارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہندوستان  کے اقتصادی استحکام سے جڑا ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top