میڈان (انڈونیشیا): انڈونیشیا کے سماترا جزیرے پر تقریباً ایک ہفتہ قبل آنے والی شدید بارشوں کے سبب سیلاب سے بڑی تباہی ہوئی ہے، جس میں اب تک 303 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ان مشکل حالات اور ریلیف سامان کی کمی کی وجہ سے، سماترا جزیرے کے کچھ حصوں میں لوگوں نے زندگی بچانے کے لیے خوراک اور پانی کی تلاش میں لوٹ مار شروع کر دی ہے۔
تباہی اور امداد میں تاخیر
بارشوں کے سبب ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں زمین کھسکنے، سڑکوں کے نقصان، جزیرے کے کچھ حصوں کے کٹنے اور مواصلاتی لائنوں کے ٹوٹنے کا سامنا ہوا۔ سامان کی کمی اور مشکل حالات نے بچاو کے کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔ خاص طور پر شمالی سماترا کے سب سے زیادہ متاثرہ شہر سیبولگا اور وسطی ٹپناولی ضلع تک امداد پہنچنے میں تاخیر ہوئی ہے۔
لوٹ مار کی وجہ
شمالی سماترا پولیس کے ترجمان فیری والیٹونک نے بتایا کہ ہفتے کی شام کو پہلی بار لوٹ مار کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوٹ مار اس وقت ہوئی جب ریلیف سامان نہیں پہنچا تھا۔ رہائشی خوفزدہ تھے کہ وہ بھوک سے مر جائیں گے کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ مدد آنے والی ہے۔
سوشل میڈیا پر نشر شدہ ویڈیوز میں لوگوں کو خوراک، دوائیں اور گیس حاصل کرنے کے لیے رکاوٹوں، پانی سے بھرے راستوں اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کچھ لوگ نقصان زدہ دکانوں تک پہنچنے کے لیے کمر تک پانی میں بھی گئے۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے علاقائی پولیس فورس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔