National News

جاپان نے مسلم قبرستان بنانے کی اجازت ٹھکرائی ، جسدِ خاکی کو آبائی ممالک بھیجنے کا حکم

جاپان نے مسلم قبرستان بنانے کی اجازت ٹھکرائی ، جسدِ خاکی کو آبائی ممالک بھیجنے کا حکم

انٹرنیشنل ڈیسک: جاپان نے ملک کے اندر مسلم قبرستان بنانے کے منصوبوں کو براہِ راست مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر جاپان نے بالکل بھی غور نہیں کیا اور اسے اپنی پرانی روایات کے مطابق قرار دیا ہے۔ جاپان کی جانب سے اس فیصلے پر سخت موقف اپناتے ہوئے واضح بیان دیا گیا ہے۔
ایم پی میزوہو امیمورا نے کہاجاپان میں جسدِ خاکی کو جلانے (کریمیشن) کی روایت ہے۔ مسلمانوں کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ وہ باقیات کو دفنانے کے لیے ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیج دیں۔
جاپانی روایت اور ثقافتی ترجیح
یہ فیصلہ جاپان کی قدیم ثقافتی اور مذہبی روایات کو ترجیح دینے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بدھ مت اور شِنٹو مت کے اثرات کی وجہ سے جسدِ خاکی کو جلانا (کریمیشن) ہی آخری رسومات کا بنیادی طریقہ رہا ہے۔
جسدِ خاکی کو جلانے پر زور: جاپان میں 99 فیصد سے زیادہ آخری رسومات جسدِ خاکی کو جلانے کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں۔
زمین کی کمی: جاپان، خاص طور پر اس کے شہری علاقوں میں، زمین کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے بڑے قبرستان بنانا ایک پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔
مہاجر مسلم کمیونٹی پر اثر
یہ فیصلہ ملک میں رہنے والی مہاجر مسلم کمیونٹی اور جاپان کی شہریت حاصل کرنے والے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج پیش کرتا ہے، جن کے مذہب میں آخری رسومات کے لیے دفن (بوریل) کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد انہیں اپنے مرحوم رشتہ داروں کی آخری رسومات کے لیے باقیات کو ان کے اصل ممالک میں واپس بھیجنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top