Latest News

فیکٹری میں جبراََمزدوری کررہے180اویغوروں اورمسلموں کو ہواکورونا۔چین میں ابتک کاسب سےبڑادھماکہ

فیکٹری میں جبراََمزدوری کررہے180اویغوروں اورمسلموں کو ہواکورونا۔چین میں ابتک کاسب سےبڑادھماکہ

 انٹر نیشنل ڈیسک:گزشتہ ماہ سے چین کے شنجیانگ  میں جبری مشقت اور اویغور کے باشندوں کے خلاف حکومت کی متنازعہ پالیسیوں سے منسلک ایک فیکٹری  میںکورونا کا اب تک کا سب   سے بڑا دھماکہ  روشنی میں  آیا ہے۔
جنوبی شنجیانگ   کے علاقے شوفو کاؤنٹی میں گذشتہ ہفتے کوویڈ ۔19 کے 180 سے زیادہ واقعات کا انکشاف کیا گیا ہے ، حکومت کی جانب سے غربت کو  دور کرنے کے تئیں ایک صنعت قائم کی گئی  تھی   اس کے تحت حکومت کی جانب سے   ایک مہم چلائی گئی  تھی جسے محققین اور حقوق نے زبر دستی قرار دیا ۔
اس اقدام کے تحت ، دور مغربی خطے میں اویغوروں اور دیگر مسلم اقلیتوں کو کھوج نکال کر  کام کے لئے   مجبور کیا گیا۔
قریبی کاشغر میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ صنعت، شجیانگ گارمنٹ  ایک 'سیٹیلائٹ فیکٹری 'تھی جو  کپڑے ، پردے اوربستر کی پیداوار فراہم کرتی تھی ۔ فیکٹری کے بارے میں گزشتہ  سرکاری میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس میں 300 کے قریب گاؤں والے ، زیادہ تر خواتین ، جو روزانہ 90 یوآن(تقریبا َ10 ڈالر) کما تی تھیں۔
شنجیانگ پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک محقق ، ایڈرین زینز نے کہا ، "یہ ایک دیہاتی فیکٹری ہے جو غربت کے خاتمے کے تحت تمام بالغ ایغوروں اور اس سے متعلقہ اقلیتوں کو کم ہنر مند فیکٹری کے کاموں میں شامل کرکے  زیادتی کا شکار ہوتے تھے ۔
واضح طور پر ، صنعت پر مبنی غربت کا خاتمہ رضاکارانہ نہیں بلکہ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا ، "جو لوگ اپنی غربت سے باہر نکلنا چاہتے ہیں انہیں  نظریاتی تعلیم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ان کی سوچ ریاست کے اہداف سے ہم آہنگ ہوجائے۔
شوفو کاؤنٹی میں وبا پھیلنے کا چین  میںسب سے بڑا  معاملہ پیش آیاہے جو 2ماہ سے بھی زیادہ عرصے میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز حکام نے بتایا کہ  فیکٹری میں  ماحول پر اگندہ  ہوتا دیکھ فیکٹری سیل کردی گئی۔ پیر کی رات تک علاقے میں ساڑھے چار لاکھ افراد کا تجربہ کیا گیا تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس وائرس سے اب کاؤنٹی میں 183 رہائشی موجود ہیں ، جن میں سے تی3 کی حالت تشویشناک ہے جب کہ 138 مریض متاثر تھے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ پہلا معاملہ ایک 17 سالہ  لڑکی جو قریب کے ایک دیہات سے تعلق رکھتی تھی کا سامنے آیا تھا  جو ایک اور مقامی فیکٹری میں کام کرتی تھی نے اپنے والدین کے ساتھ رات کا کھانا کھایا تھا۔ وہ اسی فیکٹری می سوتی تھی اور ہر 2ہفتے کے بعد گھر جاتی تھی ۔
بتا دیں کہ گزشتہ سال کے آخر میں چین میں وباکا آغاز ہوا تھا  ، اس کے بعد سے حقوق کے حامیوں نے شنجیانگ  میں بھیڑ سے بھرے ہوئے انٹرنمنٹ اور دوبارہ تعلیم کے کیمپوں اور جیلوں میں اس وائرس کے پہنچنے کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اگست میں دارالحکومت ، اورومکی میں  وبا نے حکام کو تیزی سے "ہنگامی حالت" لاک ڈاؤن کی حالت میں داخل ہونے پر مجبور کیا۔ اس خطے سے باہر آنے والی معلومات پر سخت پاپندیا عائد کری دی گئیں  جس سے  اس وائرس کی پہنچ کی حد تک غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ سابق زیر حراست افراد فیکٹری میں کام کر رہے ہیں ، جس پر سوچنا بیکار ہے ۔ اے ایس پی آئی کے ایک محقق ناتھن روسر نے کہا ، "یہ حالات جبری مشقت کے برابر ہیں ، کیونکہ یہ مزدور اپنی فیکٹری کے چند سو میٹر کے اندر رہتے ہیں اور پھر بھی انہیں صرف ایک بار   15روز بعد  گھر جانے کی اجازت  دی جاتی ہے۔"



Comments


Scroll to Top