National News

ایران کے اس مقدس شہر میں سپردِ خاک کئے جائیں گے خامنہ ای ، جانئے کب اور کہاں ہوں گی آخری رسومات

ایران کے اس مقدس شہر میں سپردِ خاک کئے جائیں گے خامنہ ای ، جانئے کب اور کہاں ہوں گی آخری رسومات

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کے سب سے مقدس شہروں میں سے ایک مشہد میں دفنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایران کی نیم سرکاری فارس خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
مشہد ایران کے شمال مشرق میں واقع ایک شہر ہے اور شیعہ مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اسی شہر میں خامنہ ای کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کے والد کو بھی یہاں واقع امام رضا کے مزار کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا۔
36 برس تک ایران کی قیادت کی
86  سالہ خامنہ ای گزشتہ 36برس سے ایران کے سب سے بڑے رہنما تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ ان کی موت کا اعلان سب سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سماجی ذرائع ابلاغ پر کیا تھا جس کے بعد ایرانی حکومت نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔ خامنہ ای کو دفنانے سے پہلے دارالحکومت تہران میں ایک بڑا الوداعی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اپنے پیغام رسانی کے ذریعے بتایا کہ تہران میں ان کے اعزاز میں ایک شاندار الوداعی تقریب ہوگی۔
آخری رسومات کب شروع ہوں گی
اطلاعات کے مطابق ایرانی وقت کے مطابق آج رات دس بجے خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز ہوگا۔ تہران میں واقع امام خمینی مسجد میں تین دن تک تعزیتی اور الوداعی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد انہیں مشہد میں دفن کیا جائے گا۔ تاہم سپرد خاک کرنے کے حتمی پروگرام اور وقت کا باضابطہ اعلان ابھی ہونا باقی ہے۔
مشہد کیوں اہم ہے؟ 
مشہد ایران کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اسے ملک کا اہم مذہبی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مقام امام رضا کا مزار شیعہ اسلام کی سب سے اہم مقدس مقامات  میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں زائرین آتے ہیں۔
ایران کی سیاست میں خامنہ ای کا اثر
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے سپریم لیڈر تھے۔ 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد وہ ملک کے صرف دوسرے سپریم لیڈر بنے۔ اس منصب پر رہتے ہوئے ان کے پاس دفاع، خارجہ پالیسی، معیشت اور تعلیم جیسے اہم قومی معاملات پر آخری فیصلہ کرنے کا اختیار تھا۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انہوں نے ایران کے سیاسی نظام پر مضبوط گرفت قائم رکھی اور پورے مشرق وسطی میں ملک کے اثر کو بڑھایا۔
مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھ گئی
ادھر مشرق وسطی میں جاری جنگ نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک اس تنازع میں پانچ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا جواب دینے کے لیے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے اور مشرق وسطی کے کئی عرب ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے پورے خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top