انٹرنیشنل ڈیسک: اسرائیل کے جنوبی شہر اراد اور دیمونا میں ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں نے بھاری تباہی مچائی ہے۔ ان حملوں میں100سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے وزارت خارجہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے براہ راست جنگی جرم اوردہشت گردی قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق ایران نے جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ رات بھر بچاو¿ ٹیمیں ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے میں مصروف رہیں۔ ہسپتالوں میں زخموں کا علاج کیا جا رہا ہے ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ذہنی صدمے سے متاثرہ درجنوں لوگوں کا علاج کیا جا رہا ہے جن میں کچھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس حملے کوملک کے مستقبل کی لڑائی کا مشکل لمحہ بتایا اور کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سخت جواب دے گا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ حملے ایران کی طرف سے اس کے نطنز جوہری افزودگی مرکز پر ہوئے مبینہ حملے کے جواب میں کیے گئے۔ تاہم اسرائیل نے اس حملے میں اپنی کردار سے انکار کیا ہے۔ اسرائیل کی ہوائی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے کئی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن کم از کم دو میزائل دفاعی ڈھال کو پار کر کے رہائشی علاقوں میں گر گئے۔
اس سے کئی گھروں میں آگ لگ گئی اور بھاری نقصان ہوا۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں سے صبر و سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کرنے کی بات کی ہے۔ اسکولز فی الحال بند کر دیے گئے ہیں جبکہ انجینئرنگ ٹیمیں عمارتوں کی حفاظتی جانچ کر رہی ہیں۔ اس حملے نے ایک بار پھر عالمی تشویش بڑھا دی ہے کیونکہ مشرق وسطی میں یہ تنازع اب بڑے جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔