National News

آپریشن ایپک فیوری: کیا ختم ہونے والی ہےیران اور امریکہ کی جنگ، ٹرمپ نے دیے بڑے اشارے، رپورٹ میں دعویٰ

آپریشن ایپک فیوری: کیا ختم ہونے والی ہےیران اور امریکہ کی جنگ، ٹرمپ نے دیے بڑے اشارے، رپورٹ میں دعویٰ

انٹر نیشنل ڈیسک:مریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو ختم کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ جنگ روکنے کے لیے تیار ہیں چاہے دنیا کو تیل فراہم کرنے کے لیے اہم آبنائے ہرمز اس وقت بند ہی رہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے کو زبردستی کھلوانے کی مہم بہت مشکل ہے اور اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے جبکہ وہ اس فوجی تنازعے کو چار سے چھ ہفتوں کے اندر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر کا اندازہ ہے کہ امریکہ اپنے بنیادی مقصد یعنی ایران کی بحریہ کو بے اثر بنانے اور اس کے میزائل ذخیرے کو تباہ کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ اب واشنگٹن کا ارادہ تہران پر سفارتی دباو بڑھانے کا ہے تاکہ تجارتی راستے دوبارہ کھل سکیں۔ اگر یہ کوشش ناکام رہتی ہے تو امریکہ اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں سے اس سمندری راستے کو کھلوانے کی قیادت کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ جنگ اٹھائیس فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ ایرانی رہنماو¿ں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک جیسے دبئی کویت اور قطر پر جوابی حملے کیے ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے جس سے عالمی تیل رسد کا تقریباً پچیس فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ بھارت جیسے ممالک کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی اسی فیصد توانائی رسد یہیں سے ہوتی ہے۔
ادھر وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اشارہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کے اخراجات کا بوجھ عرب ممالک پر ڈالنے میں دلچسپی رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ خلیجی ممالک اس فوجی مہم کی لاگت میں حصہ ڈالیں۔


 



Comments


Scroll to Top