National News

ٹرمپ خاندان میں بغاوت:رجیم چینج ایران میں نہیں، امریکہ میں ہوگا، میری ٹرمپ کی کڑی تنقید

ٹرمپ خاندان میں بغاوت:رجیم چینج ایران میں نہیں، امریکہ میں ہوگا، میری ٹرمپ کی کڑی تنقید

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری جنگ پر نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ اب اپنے گھر کے اندر سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے صدر ٹرمپ کی بھتیجی، میری ایل ٹرمپ نے حکومتی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ ایران میں نہیں بلکہ خود امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں نکلے گا ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خلاف امریکہ بھر میں احتجاج کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والی "نو کنگز" ریلیوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ سیاسی تجزیہ کار ان مظاہروں کو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی اجتماعات قرار دے رہے ہیں، جہاں مظاہرین نے فوجی مہم کے خاتمے اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوش ربا مہنگائی کے خلاف نعرے بازی کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر اپنے پروگرام کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے میری ایل ٹرمپ نے وفاقی انتظامیہ کے ان جوازوں کو یکسر مسترد کر دیا جو فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا"ٹرمپ انتظامیہ مسلسل اپنے بیانات بدل رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایرانی عوام کی فلاح و بہبود یا ان کی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف بم باری کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس ایرانی عوام کی حقیقی آزادی کا کوئی منصوبہ موجود ہی نہیں ہے۔"
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ کسی ایسے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا جو براہِ راست خطرہ نہ ہو، امریکی مفاد میں کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ "ٹرمپ کو رجیم چینج ملے گا، لیکن ایران میں نہیں، امریکا میں۔"
دوسری جانب، شدید عوامی دباو¿ اور خاندانی مخالفت کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاو¿س سے جاری کردہ حالیہ بیان میں صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں "رجیم چینج" کا عمل مکمل ہو چکا ہے کیونکہ وہاں کی موجودہ قیادت اب وہ نہیں رہی جو جنگ کے آغاز پر تھی۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ "نو کنگز" تحریک اور میری ٹرمپ جیسے قریبی افراد کی تنقید صدر کے لیے آنے والے صدارتی انتخابات میں بڑے سیاسی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔



Comments


Scroll to Top