اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کو نمازِ جمعہ کے دوران ایک شیعہ مسجد، امام باڑہ، میں خودکش بم دھماکہ ہوا۔ اس بھیانک حملے میں کم از کم 69 لوگ مارے گئے اور 170 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اسے پاکستان کے حالیہ برسوں کے سب سے مہلک دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ حملے کی ذمہ داری پاکستان کی حکومت نے ابھی تک کسی تنظیم پر نہیں ڈالی ہے، لیکن ہندوستان کے سابق را ایجنٹ اور این ایس جی کمانڈو لکشمن عرف لکی بشٹ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دعوی کیا ہے کہ زمینی سطح کی معلومات اور ابتدائی جانچ کے اشارے آئی ایس آئی ایس کے، اسلامک اسٹیٹ خراسان، کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے ایک شدت پسند تنظیم ہے جس کا مقصد پاکستان میں خوف اور عدم استحکام پھیلا کر شریعت کا قانون نافذ کرنا اور اپنے خلیفہ کی قیادت میں حکومت قائم کرنا بتایا جاتا ہے۔
6 फ़रवरी 2026 Islamabad में आत्मघाती हमला।
अब तक पाकिस्तान सरकार ने किसी संगठन का नाम नहीं लिया, लेकिन ज़मीनी इनपुट साफ़ बता रहे हैं इसके पीछे IS-K है।
IS-K एक कट्टर धार्मिक आत्मघाती संगठन है, जिसका मकसद सियाबहुल इलाकों में डर फैलाकर पाकिस्तान में शरिया लागू करना और अपना ख़लीफ़ा… pic.twitter.com/furq46KU4k
— Lucky Bisht (@iamluckybisht) February 7, 2026
یہ تنظیم پہلے بھی پاکستان اور افغانستان میں کئی بڑے دہشت گرد حملے کر چکی ہے، خاص طور پر شیعہ اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنا کر مذہبی جنون پھیلانے کے لیے۔ لکشمن عرف لکی بشٹ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا کہ دستیاب معلومات اور زمینی رپورٹوں کی بنیاد پر اس حملے کے پیچھے آئی ایس آئی ایس کے ہی ہے۔ تاہم اس دعوے کی ابھی تک پاکستان کی حکومت یا کسی بین الاقوامی ایجنسی نے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ حملے کے فوراً بعد پاکستان کی حکومت نے ہندوستان اور افغانستان پر الزامات لگائے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا اورہندوستان افغان طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔
ہندوستان نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کی اور مرنے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا، لیکن ہندوستان کے ملوث ہونے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت بتایا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی سماجی اور سلامتی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی پاکستان کے الزامات کو غلط بتایا۔ ان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بغیر جانچ اور ثبوت کے بار بار افغانستان پر الزام لگاتا رہا ہے، جو غیر ذمہ دارانہ ہے۔