انٹرنیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے مبینہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کرعالمی ذرائع ابلاغ میں کئی چونکا دینے والے دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض غیر ملکی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ حالیہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور مبینہ طور پر بے ہوشی کی حالت میں ہیں یہاں تک کہ دونوں ٹانگیں ضائع ہونے کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔ تاہم ان خبروں کی ایران کی حکومت یا کسی سرکاری ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔
رپورٹوں کے مطابق مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے دوران ہونے والے حملوں میں ایران کے کئی فوجی اور سیاسی مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی دوران یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ان حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوگئے تھے ۔ بعض ذرائع ابلاغ نے کہا کہ انہیں شدید چوٹیں آئی ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔ دوسری جانب کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ٹانگ میں چوٹ لگی ہے اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کچھ عرصے سے عوام کے سامنے نظر نہیں آئے اور ان کی عدم موجودگی نے قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں
- سکیورٹی خطرات کے باعث انہیں چھپا کر رکھا گیا ہو
- حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے وہ سامنے نہ آ رہے ہوں
- یا ایران کی حکومتی ساخت کے اندر کوئی سیاسی کشیدگی چل رہی ہو
پہلے بھی خبروں میں رہ چکے ہیں مجتبیٰ خامنہ ای
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور طویل عرصے سے ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں بااثر سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کی حالت کے بارے میں گردش کرنے والی افواہیں درست ثابت ہو جاتی ہیں تو ایران کی حکومتی ساخت اور خطے کی سیاست پر اس کے بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔