انٹر نیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں جاری ایران امریکہ جنگ مسلسل خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکی بحریہ کے دیو ہیکل طیارہ بردار جنگی جہاز ابراہام لنکن پر میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے چاہ بہار کے قریب اپنی ساحلی پٹی سے تقریباً ڈھائی سو سے تین سو کلومیٹر دور ابراہام لنکن کی طرف کروز میزائل داغے۔ تاہم امریکہ نے اس حملے سے ہونے والے نقصان کی تصدیق نہیں کی اور تصاویر جاری کرکے اپنے جہاز کو محفوظ بتایا ہے۔
اس سے پہلے ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ امریکی طیارہ بردار جہاز اس کی میزائل مار کی حد میں آیا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ اب حملے کے دعوے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی دوران کم جونگ ان نے بھی امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جیسی ہے۔ یہ بیان عالمی سطح پر اس تنازعے کو مزید سیاسی بنا رہا ہے۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی صورتحال حساس بنی ہوئی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ صرف غیر دشمن جہازوں کو ہی اس راستے سے گزرنے دیا جائے گا۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم ہوتا ہے اس لیے اس کا اثر عالمی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ تیل کی منڈی میں بھی اتار چڑھاو¿ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل اور امریکی تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ منڈی ابھی غیر یقینی صورتحال کے دور سے گزر رہی ہے۔
ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کے جوہری بجلی گھر بوشہر کے قریب ایک گولا آ گرا۔ تاہم اس میں کسی قسم کا نقصان یا جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ واقعہ جوہری تحفظ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا نے بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر بعض ایرانی ویزا رکھنے والوں کے داخلے پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔ مجموعی طور پر حالات انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف فوجی حملے اور انتباہات ہیں۔ دوسری طرف سفارتی بیانات اور عالمی ردعمل بھی تیز ہو رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ یہ تنازع اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران بنتا جا رہا ہے۔