National News

جنیوا جوہری مذاکرات شروع ہوتے ہی ایران کا طاقت کا مظاہرہ، لائیو میزائل داغ کر ٹرمپ کو دیا کھلا انتباہ

جنیوا جوہری مذاکرات شروع ہوتے ہی ایران کا طاقت کا مظاہرہ، لائیو میزائل داغ کر ٹرمپ کو دیا کھلا انتباہ

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر دوسرے دور کی بات چیت شروع ہوتے ہی مغربی ایشیا میں تناو بڑھ گیا۔ بات چیت کے ساتھ ساتھ ایران نے تنگی ہرمز کی طرف لائیو میزائل داغ کر طاقت کا مظاہرہ کیا۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران کی ساحلی حدود اور اندرونی علاقوں سے داغے گئے میزائل اپنے اہداف پر لگے۔ یہ مشق ایسے وقت ہوئی جب جنیوا میں امریکہ اور ایران کی بالواسطہ بات چیت جاری تھی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو سمجھوتہ کرنا ہوگا، ورنہ اسے “معاہدہ نہ کرنے کے نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پہلے سمجھوتہ ہو سکتا تھا، لیکن ایران کی ضد کے باعث امریکہ کو بی-2 بمبار طیاروں سے ایرانی جوہری صلاحیت پر حملہ کرنا پڑا۔
ایران کی طرف سے بات چیت کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران منصفانہ اور باعزت سمجھوتے کے لیے تیار ہے، لیکن دباو اور دھمکیوں کے آگے جھکاو¿ قابل قبول نہیں۔
اس دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز جرالڈ آر فورڈ اور ابراہم لنکن پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔ خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی تصادم سے پورا خطہ ایک اور بڑے تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ایران نے واضح کہا ہے کہ کسی بھی جوہری سمجھوتے کی شرائط میں امریکی قیادت والے سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہونی چاہیے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اسے ہتھیار بنانے سے روکنے پر اصرار کر رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top