انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جاری جنگ کا جمعرات کو چھٹا دن ہے۔ اس دوران امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے ایک موبائل میزائل لانچ ٹرک کو تباہ کر دیا ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ایران کے اس موبائل لانچ سسٹم کو نشانہ بنا کر اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ CENTCOM نے لکھا کہ ایران کی موبائل میزائل صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ان ٹھکانوں کو تلاش کر کے درست حملے کیے جا رہے ہیں۔
جنگ میں 2000 سے زیادہ بم، 1000 سے زیادہ اموات۔
28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے کئی فوجی اور اسٹریٹجک ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ تین دنوں میں 2000 سے زیادہ بم گرائے گئے۔ ایران میں اب تک 1,045 سے زیادہ لوگوں کی موت بتائی جا رہی ہے۔ کئی فوجی اڈے، پولیس اسٹیشن اور سرکاری ڈھانچے تباہ ہو گئے۔
پہلی بار نئی PrSM میزائل کا استعمال ہوا۔
امریکہ نے اس جنگ میں پہلی بار نئی نسل کی Precision Strike Missile (PrSM) کا استعمال کیا ہے۔ یہ میزائل تقریباً 500 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے تک حملہ کر سکتی ہے۔ انتہائی درست طریقے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ جدید بیلسٹک میزائل نظام کا حصہ ہے۔ امریکہ نے اس مہم کو “Operation Epic Fury” نام دیا ہے۔
جنگ کے درمیان بھی معمول کی زندگی کی جھلک۔
اسی دوران اسرائیل میں جنگ کے بیچ بھی معمول کی زندگی کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ تل ابیب میں میشا نام کے ایک نوجوان نے اپنی منگیتر لیور سے زیرِ زمین بم شیلٹر میں شادی کی۔ شادی پیٹح ٹکوا میں ہونی تھی، لیکن میزائل حملوں کے خطرے کی وجہ سے اسے بنکر میں کرنا پڑا۔ میشا نے کہا، “حالات جیسے بھی ہوں، نئی شروعات ہونی چاہیے۔ زندگی رکنی نہیں چاہیے۔” اس کے علاوہ اسرائیل میں یہودی تہوار پوریم بھی دھماکوں کے درمیان ہی منایا گیا۔ تل ابیب اور یروشلم کے کئی بنکروں میں لوگ جمع ہوئے اور ناچ گانا کر کے تہوار منایا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے درمیان بھی خوشی منانا ان کے وجود اور حوصلے کی علامت ہے۔