نیویارک: امریکہ میںہندوستانی طلبہ کی سلامتی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ کرناٹک کے رہنے والے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں پوسٹ گریجویٹ کی پڑھائی کر رہے ہندوستانی طالب علم ساکیت سرینواسیا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس معاملے پر قونصل خانہ جنرل آف انڈیا، سان فرانسسکو نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ قونصل خانے نے بتایا کہ وہ طالب علم کے والدین کے رابطے میں ہے اور مقامی امریکی حکام کے ساتھ مل کر ساکیت کی تلاش میں مصروف ہے۔
ہندوستانی قونصل خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کر کے کہا کہ ساکیت سرینواسیا کے لاپتہ ہونے کی خبر انتہائی تشویشناک ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ پہلا نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ نے نسلی امتیاز، حملوں اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی کی شکایات اٹھائی ہیں۔ اسی معاملے پر لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی طرف سے سوال پوچھے جانے پر وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ حکومت ہندوستانی طلبہ کی سلامتی کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق بیرون ملک کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو فوراً متعلقہ ملک کی حکومت کے سامنے اٹھایا جاتا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، پری اورینٹیشن سیشن منعقد کرتے ہیں اور مدد(MADAD ) پورٹل، واٹس ایپ گروپ اور ایمرجنسی ہیلپ لائن جیسی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بحران کی صورت میں انڈین کمیونٹی ویلفیئر فنڈ کے ذریعے طلبہ کو مدد دی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر انخلا مہم بھی چلائی جاتی ہے۔ ساکیت سرینواسیا کی گمشدگی نے ایک بار پھر بیرون ملک ہندوستانی طلبہ کی سلامتی کے انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔