Latest News

چالیس ڈالر میں اپنے ویلنٹائن کے نام پر خریدیں ستارہ، جانئے کیا ہیں عالمی قوانین

چالیس ڈالر میں اپنے ویلنٹائن کے نام پر خریدیں ستارہ، جانئے کیا ہیں عالمی قوانین

انٹرنیشنل ڈیسک : ویلنٹائن ڈے کے موقع پر انٹرنیٹ پر کئی ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ آپ اپنے پیارے کے نام پر صرف 40 ڈالر میں کسی ستارے کا نام رکھ سکتے ہیں۔ سرٹیفکیٹ اور اسٹار میپ کے ساتھ یہ پیشکش بہت رومانوی لگتی ہے، لیکن سائنسی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کی محقق لورا نکول ڈریسن کے مطابق، ستاروں کے نام رکھنے کی یہ تمام خدمات نجی اور غیر سرکاری ہوتی ہیں۔ ماہرین فلکیات اور سائنسدان ایسے ناموں کو تسلیم نہیں کرتے۔ ستاروں کے سرکاری نام طے کرنے کا اختیار صرف انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین (International Astronomical Union )  کے پاس ہے۔
آئی اے یو کے ورکنگ گروپ آن اسٹار نیمز نے صاف کہا ہے کہ آسمان کسی کی نجی ملکیت نہیں ہے۔ اصولوں کے مطابق عام طور پر ستاروں کا نام کسی شخص کے نام پر نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی وجہ سے یہ ویب سائٹس اپنے ایف اے کیو حصے میں یہ وضاحت دیتی ہیں کہ نام صرف ان کے نجی ڈیٹا بیس میں درج ہوتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ننگی آنکھ سے انسان زیادہ سے زیادہ تقریبا 5,000 ستارے دیکھ سکتا ہے، جبکہ کئی ویب سائٹس 1 لاکھ سے لے کر 5 لاکھ سے زیادہ مطمئن صارفین کا دعوی کرتی ہیں۔ یعنی ستاروں سے زیادہ نام فروخت کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین فلکیات ستاروں کو نام سے نہیں بلکہ اشارتی کوڈز( حروف اور اعداد کے امتزاج ) سے پہچانتے ہیں۔ ایک ارب سے زیادہ معلوم ستاروں میں سے 600 سے بھی کم ستاروں کے ہی سرکاری نام ہیں، جیسے سیریس (Sirius) ، بیٹلجوس(Betelgeuse )  اور پولارس(Polaris)۔  آئی اے یو کے مطابق، ستاروں کے نام عموماً تاریخی، ثقافتی اور مقامی روایات سے لیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سامی برادری جیسے مقامی معاشروں کے روایتی نام بھی سرکاری فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ یعنی آپ سرکاری طور پر اپنے ویلنٹائن کے نام پر کسی ستارے کا نام نہیں رکھ سکتے۔ لیکن آپ ستاروں بھری رات میں کسی چمکتے ستارے کی طرف اشارہ کر کے محبت کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں، اور شاید یہی سب سے سچا رومانس ہے۔
 



Comments


Scroll to Top