جالندھر: ملک کی سب سے بڑی مِلک (دودھ) کو-آپریٹو امول کے منیجنگ ڈائریکٹر جین مہتا نے حال ہی میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئی تجارتی معاہدے (ٹریڈ ڈیل ) کو ملک کے کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرنے والی ڈیل بتایا ہے۔ پنجاب کیسری / ہند سماچار کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران مہتا نے کہا کہ اس ڈیل کے بعد ملک کے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کا کم از کم ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہونے سے بچ گیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے دوران ہندوستان کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی اور سفارت کاری کی تعریف کرتے ہوئے مہتا نے کہا کہ اس طرح کے تجارتی معاہدوں میں بہت صبر کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ایسے معاہدوں کا سیاسی اثر بھی ہو تو صورتحال اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے تمام معاملات کو سمجھداری سے سنبھالا اور ایسی ڈیل طے ہو سکی جو ملک کے کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ اس ڈیل کے ساتھ ساتھ انہوں نے ملک کے ڈیری سیکٹر کے مستقبل اور حکومت کی جانب سے ڈیری سیکٹر کی ترقی کے لیے کیے جا رہے اقدامات پر بھی تفصیل سے بات کی۔ پیش ہے جین مہتا کا مکمل انٹرویو۔
اس ڈیل سے ملک کے کسانوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست کو لال قلعہ سے ہی واضح کر دیا تھا کہ امریکہ کے ساتھتجارتی معاہدے (ٹریڈ ڈیل ) میں ملک کے کسانوں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت اپنے موقف پر قائم رہی ہے اور یقینی طور پر ڈیری اور فارم سیکٹر کے لیے یہ ایک تاریخی ڈیل ہے۔ حکومت نے اس معاملے میں ریڈ لائن طے کی تھی اور امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آ گئی ہے اور دودھ سے جڑے کسانوں اور عام کسانوں کے لیے یہ ڈیل فائدہ مند ثابت ہوگی۔
دودھ سے جڑے کسانوں کے لیے یہ ڈیل کیسے فائدہ مند ہے؟
دودھ اس ملک کی سب سے بڑی فصل ہے اور ڈیری مصنوعات کو اس ڈیل سے پوری طرح باہر رکھا گیا ہے۔ ملک میں سالانہ 250 ملین میٹرک ٹن دودھ کی پیداوار ہوتی ہے جس کی مجموعی معاشی قدر تقریباً 14 سے 15 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یہ اعداد و شمار گندم، چاول اور تیلہن کی مشترکہ پیداوار کی قدر سے بھی زیادہ ہیں۔
ملک کے تقریبا 8 سے 10 کروڑ خاندانوں کی روزی روٹی براہ راست دودھ کی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ڈیری سیکٹر کو محفوظ رکھ کر حکومت نے دراصل کروڑوں دیہی خاندانوں کی آمدنی اور ان کے معیار زندگی کی حفاظت کی ہے۔ اگر اس شعبے کو غیر ملکی مقابلے کے لیے غیر محفوظ چھوڑ دیا جاتا تو کسانوں کی آمدنی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے یعنی تقریبا 10 فیصد تک بھاری کمی آنے کا خطرہ تھا، جسے اس سمجھداری بھری ڈیل نے ٹال دیا ہے۔
سیب، ڈرائی فروٹ اور کچھ دیگر امریکی مصنوعات کو ہندوستانی بازار میں داخلہ ملنے پر آپ کی کیا رائے ہے؟
جن فصلوں کو اس ڈیل سے باہر رکھا گیا ہے ان میں بھی ابھی ٹیرف ریٹ کی مکمل صورتحال واضح ہونے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں چیزیں راتوں رات واضح نہیں ہوتیں، لیکن پھر بھی جن فصلوں کو ہندوستانی بازار میں رسائی دینے کی بات کی جا رہی ہے ان میں ہندوستان امریکی فصلوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مجموعی طور پر یہ ڈیل کسانوں کے حق میں ہے۔
امول کو اس ڈیل سے کیا فائدہ ہوگا؟
کو-آپریٹو ماڈل کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے مہتا نے بتایا کہ صرف امول کے ساتھ ہی 36 لاکھ کسان خاندان اور گجرات کے 18 ہزار 600 دیہات کی دودھ منڈیاں جڑی ہوئی ہیں۔ ہندوستان حکومت نے تجارتی مذاکرات کے دوران امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک اور گروپوں کو ہندوستان کے ڈیری بازار تک کھلی رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ مہتا کے مطابق 150 کروڑ کی آبادی کے ساتھ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے اور اس میں خود کفیل ہونا ہماری بڑی کامیابی ہے۔ تاہم کچھ منتخب زرعی مصنوعات جیسے سیب اور اخروٹ کے لیے امریکہ کو محدود بازار ی رسائی دی گئی ہے، لیکن ڈیری سیکٹر میں 'نو مینز نو' (نہیں مطلب نہیں ) کے اصول پر سختی سے عمل کیا گیا ہے۔
ٹریڈ ڈیل ہندوستان کے ڈیری ٹو ورلڈ بننے کی سمت میں بڑا قدم
عالمی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن اب اور بھی مضبوط ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا کا ایک چوتھائی دودھ ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے اور اگلے 10 برسوں میں اس کے ایک تہائی تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ جین مہتا نے اسے ڈیری ٹو دی ورلڈ بننے کے خواب کی سمت میں بڑا قدم بتایا۔ اس ٹریڈ ڈیل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ہندوستانی ڈیری مصنوعات پر لگنے والا درآمدی محصول 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے ہندوستان مصنوعات کو عالمی بازاروں میں مقابلہ کرنے اور برآمد کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح حکومت نے نہ صرف گھریلو بازار کو محفوظ کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تجارتی توسیع کے راستے بھی کھول دیے ہیں۔
کسانوں اور کو-آپریٹو اداروں نے اس معاملے میں حکومت کے سامنے کیا مؤقف رکھا تھا
اس کامیابی کے پیچھے حکومت کا شمولیتی نقطہ نظر اور مسلسل مشاورت کا عمل رہا ہے۔ گزشتہ آٹھ سے دس مہینوں کے دوران حکومت نے ڈیری صنعت، کسان تنظیموں، برآمد کنندگان اور کو-آپریٹو اداروں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ گہری بات چیت کی۔ حکومت نے صنعت کے دبا کے نکات کو سمجھا اور انہیں تجارتی مذاکرات کے دوران مضبوطی سے پیش کیا۔ اس کے علاوہ گھریلو سطح پر بھی حکومت نے ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح میں بڑی کمی کر کے صنعت کو نئی توانائی دی ہے۔
مکھن اور پنیر پر ٹیکس 12 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کرنا اور ٹیٹرا پیک دودھ پر اسے صفر کرنا ایسے انقلابی اقدامات رہے ہیں جن سے طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انہی مثبت کوششوں کا نتیجہ ہے کہ امول برانڈ کا کاروبار اس سال ایک لاکھ کروڑ روپے کے تاریخی ہدف کو چھونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مہتا نے نتیجہ نکالا کہ یہ ٹریڈ ڈیل ملک کے طویل مدتی مفادات کی حفاظت کرنے والی اور کسانوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی۔