Latest News

نایاب دریافت : 29 کروڑ سال پہلے کیسی تھی شکاری کی خوراک ، اُلٹی نے کھولے راز

نایاب دریافت : 29 کروڑ سال پہلے کیسی تھی شکاری کی خوراک ، اُلٹی نے کھولے راز

انٹر نیشنل ڈیسک:  سائنسدانوں نے جرمنی کے بروماکر جیواشم استھل (فوسل سائٹ )سے ایک انتہائی نایاب اور حیران کن دریافت کی ہے، تقریبا 29 کروڑ سال پرانی فوسلائزڈ الٹی (Regurgitalite)۔ یہ دریافت ابتدائی پرمین دور کے ایک قدیم شکاری کے غذائی رویے پر نئی روشنی ڈالتی ہے۔ محققین کو جزوی طور پر ہضم شدہ ہڈیوں کا ایک گھنا مجموعہ ملا، جس میں تین مختلف جانوروں کے باقیات شامل تھے۔ ان ہڈیوں میں کوئی باقاعدہ شکل یا پاخانے جیسا ڈھانچہ نہیں تھا، جس سے اشارہ ملا کہ یہ کوپرولائٹ(فوسلائزڈ پاخانہ) نہیں بلکہ شکاری کے ذریعے اُگلے گئے باقیات ہیں۔
کیمیائی تجزیہ کے لیے مائیکرو-ایکس آر ایف تکنیک استعمال کی گئی، جس میں ہڈیوں کے گرد فاسفورس کی تقریبا مکمل کمی پائی گئی۔ یہ خصوصیت ریگرجٹالائٹ کی پہچان سمجھی جاتی ہے، کیونکہ کوپرولائٹ میں ہاضمے کے طویل عمل کی وجہ سے فاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سی ٹی اسکین کے ذریعے اس فوسل کا سہ جہتی معائنہ کیا گیا، جس سے ہر ہڈی کی درست شناخت ممکن ہوئی۔ تحقیق سے تصدیق ہوئی کہ ایک ہی شکاری نے مختلف سائز کے تین جانور وں کو نگلا تھا  اور بعد میں انہیں جزوی طور پر اُگل دیا۔
سائنسدانوں کے مطابق، بروماکر سائٹ سے دو ایسے گوشت خور سائنیپسڈ(Synapsids) معلوم ہیں جو اس طرح کا شکار نگل سکتے تھے، ڈائمیٹروڈون (Dimetrodon)  اور ٹیمباکارنیفیکس (Tambacarnifex)۔ یہ دریافت نہ صرف زمینی ریڑھ دار جانور کی اب تک کی سب سے قدیم فوسلائزڈ الٹی سمجھی جا رہی ہے، بلکہ یہ ابتدائی ممالیہ کے پیش روں کے غذائی رویے کو سمجھنے کے لیے بھی ایک نیا سائنسی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔ یہ مطالعہ حال ہی میں Scientific Reports جرنل میں شائع ہوا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top