National News

اقوام متحدہ سے کم عمری کی شادی کے خلاف عالمی دن منانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ سے کم عمری کی شادی کے خلاف عالمی دن منانے کا مطالبہ

نئی دہلی:دنیا بھر میں کم عمری کی شادی کے جاری مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئےہندستان کے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف کارکن اور بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون داں بھوون ریبھو نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک بین الاقوامی دن کا اعلان کرے۔ یونائیٹڈ نیشن کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (سی ایس ڈبلیو) کے 70ویں اجلاس کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہندوستان میں کم عمری کی شادیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن اب بھی دنیا میں ہر تین سیکنڈ میں ایک بچپن کی شادی ہوتی ہے۔
بچوں کی شادی کو روکنے کے لیے عالمی احتساب اور موثر قانون کے نفاذ کو مضبوط کرنے کے لیے ایک خاص دن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی مسٹر بھوون ریبھو نے کہا، "ہندوستان نے دکھادیا ہے کہ بچپن کی شادیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ روک تھام، تحفظ، قانونی کارروائیوں، مذہبی رہنماوں، دھرم گروں اور ملک کے بچوں کے تحفظ پر مبنی پوری حکومت، پورے معاشرے کے نقطہ نظر کے ساتھ۔ 2030 تک کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ تین سال سے بھی کم عرصے میں کم عمری کی شادی کی شرح 23 فی صد سے کم ہو کر 15 فی صد سے کم ہو گئی ہے، جو کہ اکثر ثقافت یا روایت کی آڑ میں چھپ جاتی ہے، عالمی سطح پر بچوں کی شادی کے خلاف عالمی دن منانے اور اسے متحرک کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ تقریب میں موجود ڈاکٹر فاطمہ مادا بایو، جو سیرا لیون کی خاتونِ اوّل ہیں، اور شردھا شریشٹھا جو نیپال کی خواتین، اطفال اور سینئر شہریوں کی وزیر ہیں، کے علاوہ دیگر معزز مہمانوں نے بھی کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مخصوص بین الاقوامی دن کے اعلان کے مطالبے کی بھرپور حمایت کی۔
بھون رِیبھ±و، جو ورلڈ لا کانگریس 2025 میں ورلڈ جیورسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے “میڈل آف آنر” سے سرفراز ہونے والے پہلےہندستانی وکیل ہیں، نے اس پروگرام کو آن لائن خطاب کیا۔ یہ پروگرام جسٹ رائٹس فار چلڈرن نے ڈاکٹر فاطمہ مادا بایو (خاتونِ اوّل، سیرا لیون) کے دفتر کے ساتھ شراکت میں منعقد کیا تھا، جو آرگنائزیشن آف افریکن فرسٹ لیڈیز فار ڈیولپمنٹ کی صدر بھی ہیں
اس پروگرام میں شاردہ شریشٹھا، وزیر برائے خواتین، اطفال اور بزرگ شہریان حکومت نیپال؛ پیو اسمتھ، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور پروگرام ڈائریکٹر اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ؛ ایزابیل روم، حکومت فرانس کی انسانی حقوق کی سفیر؛ تھامس یانائیزن، جرمنی کے نائب مستقل نمائندہ؛ ڈاکٹر اینجیلا مارٹنز، افریقی یونین کی نمائندگی کرتے ہوئے؛ لیجیا جینیٹ پیریز پینا، حکومت ڈومینیکن جمہوریہ کی قومی کونسل برائے اطفال و نو عمر کی ایگزیکٹو چیئرپرسن؛ اینا رولڈ، دی ڈپلومیٹک کوریئر کی بانی اور سی ای او؛ جہا دوکوریہ، یو این وومن کی علاقائی سفیر اور ری جنریٹیو ہبس کی بانی؛ دیویہ سرینواسن، ایکوالٹی ناو میں اینڈنگ جینڈر بیسڈ وائلنس کی ڈائریکٹر؛ اور رچنا تیاگی، جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی جنرل کاونسل سمیت کئی بین الاقوامی شخصیات شریک ہوئیں۔
پروگرام میں موجود وزرائ اقوام متحدہ کے سینئر عہدیداران، ماہرینِ قانون، سول سوسائٹی کے رہنما اور متاثرین کے حامیوں نے متفقہ طور پر رکن ممالک سے بچوں کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک بین الاقوامی دن کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کم عمری کی شادی کے خلاف عالمی سطح پر ترجیحی بنیادوں پر قوانین کے موثر نفاذ اور جوابدہی کو مزید مضبوطی ملے گی۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ کئی ممالک میں کم عمری کی شادی کے خلاف سخت قانونی ڈھانچے پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے یہ روایت اب بھی جاری ہے۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن بچوں کے تحفظ اور حقوقِ اطفال کے میدان میں کام کرنے والی سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ اس کے 250 سے زائد شراکت دار ادارے 2030 تک ہندستان سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے 451 اضلاع میں عملی طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک نے سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرنٹ لائن کارکنوں کے تعاون سے گزشتہ تین برسوں میں بھارت میں تقریباً پانچ لاکھ کم عمری کی شادیوں کو رکوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top