National News

ایران جنگ کے دوران ہندوستان نے بنگلہ دیش کو دیا سہارا، 5 ہزار ٹن ڈیزل کی پہلی کھیپ بھیجی

ایران جنگ کے دوران ہندوستان نے بنگلہ دیش کو دیا سہارا، 5 ہزار ٹن ڈیزل کی پہلی کھیپ بھیجی

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی جنگ اور عالمی تیل کے بحران کے درمیان ہندوستان نے اپنے پڑوسی ملک کو بڑی راحت دی ہے۔ ہندوستان  نے توانائی تعاون کے معاہدے کے تحت پائپ لائن کے ذریعے بنگلہ دیش کو پانچ ہزار ٹن ڈیزل کی پہلی کھیپ بھیجی ہے۔ یہ فراہمی ہندوستان کی "نیبرہڈ فرسٹ" پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد پڑوسی ممالک کی توانائی کی ضروریات میں مدد کرنا ہے۔
معاہدے کے مطابق  ہندوستان  ہر سال پائپ لائن کے ذریعے بنگلہ دیش کو ایک لاکھ اسی ہزار ٹن ڈیزل کی فراہمی کرے گا۔ بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن کے چیئرمین محمد رضانور رحمان نے بتایا کہ ابھی بھیجی گئی پانچ ہزار ٹن کی کھیپ اسی سالانہ معاہدے کا حصہ ہے۔ معاہدے کے مطابق ابتدائی چھ مہینوں کے اندر بنگلہ دیش کو کم از کم نوے ہزار ٹن ڈیزل ہندوستان  سے درآمد کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق آنے والے دو مہینوں کے اندر چھ ماہ کے لیے طے کی گئی کل مقدار کا بڑا حصہ بنگلہ دیش پہنچانے کی منصوبہ بندی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پائپ لائن کے ذریعے ڈیزل کی فراہمی سے بنگلہ دیش کو بڑا اقتصادی فائدہ ہوگا۔ اس سے نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی اور ملک کے شمالی علاقوں میں ایندھن کی دستیابی زیادہ آسان اور تیز ہوگی۔ یہ فراہمی ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری تصادم کی وجہ سے عالمی توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوستان  کا یہ اقدام علاقائی توانائی کی سلامتی کو مضبوط کرنے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کی سمت میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top