انٹرنیشنل ڈیسک: ہندوستان نے افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ رمضان کے دوران شہریوں کی جان لینے والے حملے کرتے وقت اسلامی اتحاد کی بات کرنا منافقت ہے۔ پیر کے روز افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ہریش پروتھنینی نے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اپیل کے لیے نئی دہلی کی حمایت کو دوہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان افغانستان کی سرزمین پر کیے گئے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور ملک کی خودمختاری کے اصول کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بین الاقوامی قانون اور اسلامی اتحاد کے اعلی اصولوں کی حمایت کرنا اور دوسری طرف رمضان کے مقدس مہینے کے دوران وحشیانہ فضائی حملے کرنا منافقت ہے۔ ان حملوں میں چھ مارچ تک ایک سو پچاسی بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق مرنے والے ایک سو پچاسی افراد میں سے تقریبا ًپچپن فیصد خواتین اور بچے ہیں اور ان حملوں کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
پروتھنینی نے افغانستان جیسے خشکی میں گھرے ملک کو تجارت کے لیے راستہ دینے سے انکار کرنے اور رسائی کو جان بوجھ کر روکنے کو عبوری دہشت گردی کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش ظاہر کی۔ اسے عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے نے کہا کہ خشکی میں گھرے ترقی پذیر ممالک کی تجارت اور آمدورفت سے متعلق مجبوریوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔