انٹرنیشنل ڈیسک: ہندوستان نے اس ماہ ایران سے متعلق اور امریکہ کی جانب سے پابندی لگائے گئے تین تیل ٹینکرز ضبط کیے ہیں اور اپنے سمندری علاقے میں نگرانی تیز کر دی ہے۔ یہ جانکاری رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی اس لیے کی گئی تاکہ ہندوستانی آبی حدود کا استعمال شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے تیل کی اصل شناخت چھپانے میں نہ ہو سکے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ضبط کیے گئے تین ٹینکرز اسٹیلر روبی (Stellar Ruby)، اسفالٹ اسٹار (Asphalt Star ) اور ال جافزیا (Al Jafzia )بار بار اپنی شناخت بدل کر ساحلی ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان جہازوں کے مالک بیرون ملک مقیم بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا نے نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ان ٹینکرز یا ان کے کارگو کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انڈین کوسٹ گارڈ (Indian Coast Guard ) نے اب اپنے سمندری علاقے میں 55 جہاز اور 10 سے 12 ہوائی جہاز تعینات کیے ہیں، جو چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔ اسی دوران، امریکہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (Office of Foreign Assets Control) نے پچھلے سال جن جہازوں پر پابندیاں لگائی تھیں، ان کے آئی ایم او نمبر حال ہی میں پکڑے گئے جہازوں سے میل کھاتے ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق، ال جافزیا نے 2025 میں ایران سے جبوتی تک فیول آئل پہنچایا تھا، جبکہ اسٹیلر روبی ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ رہا۔ اسفالٹ اسٹار زیادہ تر چین کے گرد آپریشن کرتا پایا گیا۔ اس سے قبل فروری میں ہی ہندوستانی کوسٹ گارڈ نے سمندری ہوا نیٹ ورک کے ذریعے چلنے والے ایک بین الاقوامی تیل سمگلنگ ریکیٹ کا پردہ فاش کیا تھا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ تنازعہ زدہ ممالک سے سستا تیل مڈ سی ٹرانسفر کے ذریعے موٹر ٹینکرز تک پہنچایا جا رہا تھا، جس سے بھاری محصولات کی چوری ہو رہی تھی۔
ہندوستانی کوسٹ گارڈ نے کہا کہ یہ آپریشن ڈیجیٹل نگرانی اور سمندری موجودگی کے ذریعے کیا گیا، جو ہندوستان کو سمندری سکیورٹی کا قابل اعتماد فراہم کنندہ اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی نظام کا مضبوط محافظ ثابت کرتا ہے۔