Latest News

امریکی پینل کا انکشاف: ہندوستان-چین ٹکراؤ ختم نہیں ہوا، صرف سرد پڑا ہے ، تبت کو لے کر وارننگ

امریکی پینل کا انکشاف: ہندوستان-چین ٹکراؤ ختم نہیں ہوا، صرف سرد پڑا ہے ، تبت کو لے کر وارننگ

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ میں ایک پارلیمانی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے سرکردہ امریکی اور ہندوستانی  ماہرین نے کہا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان حالیہ سفارتی نرمی کے باوجود دونوں ممالک کی رقابت 'ساختی 'نوعیت کی ہے اور مستقبل میں یہ ٹکرا ؤ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یو ایس-چائنا اکنامک اینڈ سکیورٹی ریویو کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی )  پر فوجیوں کے جزوی طور پر پیچھے ہٹنے سے فوری کشیدگی ضرور کم ہوئی ہے، لیکن طاقت کے توازن میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اسٹریٹجک تجزیہ کار سمیر للوانی  (Sameer Lalwani ) نے کمیشن کو بتایا کہ غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان چین کو ایک حریف کے طور پر ہی دیکھتا رہے گا۔ ان کے مطابق سرحد آج بھی انتہائی فوجی نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے اور فوجی توازن چین کے حق میں جھکا ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تبت میں چین کا مسلسل بڑھتا بنیادی ڈھانچہ اور کسی ممکنہ دلائی لامہ جانشینی بحران جیسا سیاسی واقعہ بڑے فوجی تصادم میں بدل سکتا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن  (Sameer Lalwani ) کی ماہر تنوی مدان (Tanvi Madan ) نے اسے اسٹریٹجک تبدیلی نہیں بلکہ ٹیکٹیکل نرمی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کے گلوان تصادم کے بعد ہندوستان میں چین کے حوالے سے اعتماد تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان کی تشویش اب صرف سرحد تک محدود نہیں رہی۔  جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کے خطے میں چین کی بڑھتی بحری اور اقتصادی موجودگی نے نئی دہلی کی سیکیورٹی تشویشات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سومیا بھومک نے کہا کہ پڑوسی ممالک میں چین کا اثر و رسوخ ہندوستان کے لیے بے مثال اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے۔ اقتصادی محاذ پر ماہرین نے چینی سپلائی چینز پر ہندوستان کے انحصار کو سنگین خطرہ قرار دیا۔
چندریش ہرجیون  (Chandresh Harjivan )نے کہا کہ ادویات اور خام کیمیکلز کے معاملے میں چین کا کردار اتنا بڑا ہے کہ اس سے امریکہ کی صحت کی سکیورٹی بھی بالواسطہ طور پر جڑی ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ چین کا توازن قائم کرنے میں ہندوستان امریکہ کو ایک اہم شراکت دار مانتا ہے۔ سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کی لنڈسی فورڈ نے کہا کہ نہ ہندوستان اور نہ ہی امریکہ اکیلے چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سابق امریکی عہدیدار ترون چھابرا نے ہندوستان  کو عالمی تکنیکی مسابقت کا سب سے اہم سوئنگ اسٹیٹ قرار دیا اور کہا کہ  ہندوستان  کے فیصلے طے کریں گے کہ انڈو پیسفک خطہ جمہوری تکنیکی نظام کے ساتھ جائے گا یا چینی غلبے کی طرف۔ اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن امریکی پینل کی سماعت نے واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان -چین تعلقات کا مستقبل مفاہمت نہیں بلکہ مسابقت سے طے ہوگا۔
 



Comments


Scroll to Top