National News

آخر نیٹو کیا ہے؟ ہر بارکیوں ہوتی ہے اس تنظیم کی چرچا ، جانئے

آخر نیٹو کیا ہے؟ ہر بارکیوں ہوتی ہے اس تنظیم کی چرچا ، جانئے

انٹرنیشنل ڈیسک:دنیا کی سب سے بڑی عسکری تنظیم نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے حال ہی میں بھارت، چین اور برازیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ روس کے ساتھ تیل اور گیس کی تجارت جاری رکھتے ہیں تو 100% سخت سزا دی جائے گی۔ اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ آخر نیٹو جیسی عسکری تنظیم کو بھارت کی تجارتی پالیسی میں مداخلت کا کیا حق ہے؟
بھارت کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے میں نیٹو کی جانب سے ایسی دھمکی دینے کے بعد یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ بیان کسی سیاسی دباو¿ بالخصوص ڈونالڈ ٹرمپ کے زیر اثر دیا گیا؟
نیٹو کیا ہے اور کب قائم ہوا؟
نیٹو کا قیام 4 اپریل 1949 کو واشنگٹن ڈی سی، امریکہ میں ہوا۔ اس کا مقصد مغربی یورپ کو سوویت یونین کے اثرات سے بچانا تھا۔ تنظیم کی بنیاد امریکہ، کینیڈا اور 10 یورپی ممالک نے مل کر رکھی تھی۔ اس وقت نیٹو کے کل 30 رکن ممالک ہیں اور اس کا ہیڈ کوارٹر بیلجیم کے شہر برسلز میں واقع ہے۔
نیٹو کا بنیادی کام کیا ہے؟
نیٹو ایک اجتماعی دفاعی تنظیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تنظیم کے کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام 30 ممالک پر حملہ کیا گیا ہے۔ نیٹو ایسے معاملات میں سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر وہ فوجی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 70 فیصد سے زیادہ فوجی اخراجات نیٹو کے رکن ممالک کرتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ کا ہے جو اسے تنظیم کا سب سے بااثر رکن بناتا ہے۔
بھارت کیوں نہیں ہے نیٹو کا حصہ؟
بھارت نیٹو کا رکن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا اس تنظیم سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ درحقیقت نیٹو میں ایشیا کا کوئی ملک شامل نہیں ہے۔ بھارت کو ماضی میں نیٹو میں شمولیت کی کئی غیر رسمی تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن بھارت نے سفارتی توازن کی وجہ سے ہر بار اسے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی نان الائنمنٹ اور سٹریٹجک خود مختاری پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت نیٹو جیسے مغربی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
نیٹو کی دھمکی پر اٹھے سوال
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے تازہ بیان پر کئی سفارت کاروں اور تزویراتی ماہرین نے سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کا کام صرف فوجی تعاون تک محدود ہے اور اسے تجارت یا توانائی کی پالیسیوں میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ روس سے تیل اور گیس خریدنے پر بھارت کو سزا دینے کی بات کرنا نہ صرف بھارت کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عالمی سفارتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
 



Comments


Scroll to Top