Latest News

برطانیہ میں ہندوؤں کی آستھا سے کھلواڑ، 40 سال پرانا مندر بند ہونے خدشہ ، عمارت فروخت کرنے کا فیصلہ

برطانیہ میں ہندوؤں کی آستھا سے کھلواڑ، 40 سال پرانا مندر بند ہونے خدشہ ، عمارت فروخت کرنے کا فیصلہ

لندن: مشرقی برطانیہ کے شہر پیٹر برو میں واقع ایک کمپلیکس میں موجود چالیس سال پرانے ہندو مندر اور کمیونٹی سینٹر کے بند ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ مقامی حکام نے اس عمارت کو فروخت کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے جو مندر کو کرائے پر دی گئی ہے۔ بھارت ہندو سماج مندر کی بنیاد 1986 میں شہر کے نیو انگلینڈ کمپلیکس میں رکھی گئی تھی اور کیمبرج شائر، نورفوک اور لنکن شائر کے وسیع علاقے سے تیرہ ہزار سے زیادہ ہندو یہاں درشن کے لیے آتے ہیں۔ مندر انتظامیہ پیٹر برو سٹی کونسل سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے مہم چلا رہی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں کونسل کابینہ کی میٹنگ میں کہا گیا کہ جائیداد کی فروخت سے ٹیکس دہندگان کے لیے بہترین قدر حاصل کرنا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔
وہیں، دوسری جانب مندر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم بھارت ہندو سماج سے منسلک عمارت کی فروخت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ کمیونٹی کے قائم کردہ اس ادارے کو بند دروازوں کے پیچھے بغیر شفافیت یا رضامندی کے فروخت نہیں کیا جانا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ صرف جائیداد کا معاملہ نہیں بلکہ وراثت، اعتماد اور جواب دہی کا مسئلہ ہے۔ کمیونٹی کو جواب حاصل کرنے کا حق ہے نہ کہ رازداری کا سامنا کرنے کا۔ اس فیصلے پر سوال اٹھائے جانے چاہئیں اور اس کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
ہندو کونسل یو کے ، جو برطانوی ہندوؤں کی نمائندگی کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے، نے لیبر پارٹی کی قیادت والی پیٹر برو سٹی کونسل کے نئے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مندرکے سماجی اثر و قدر کو پہلے تسلیم کرنے اور بھارت ہندو سماج کو اس کی ملکیت منتقل کرنے کے عہد کو نظر انداز کیا ہے۔



Comments


Scroll to Top