واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران ڈیموکریٹک رکنِ کانگرس الہان عمر نے ان پر مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلانے اور امریکی شہریوں کی موت کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔ ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا اور کئی بار کارروائی معطل ہوئی۔ ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران ٹرمپ نے مہاجرین کے بارے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سخت بیانات دیے۔ جب انہوں نے مینیسوٹا کی صومالی برادری کے بارے میں تبصرہ کیا تو ڈیموکریٹک ارکان کا صبر جواب دے گیا۔ مینیسوٹا سے رکنِ کانگرس الہان عمر اور مشی گن کی رکنِ کانگرس رشیدہ طلیب نے درمیان میں مداخلت کی۔
الہان عمر نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی شہریوں کی جانیں گئی ہیں۔ یہ احتجاج مینیسوٹا میں امیگریشن کارروائی کے دوران دو امریکی شہریوں کی مبینہ اموات کے حوالے سے تھا۔ خطاب کے آغاز میں ہی ٹیکساس کے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ال گرین کو احتجاج درج کرانے پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ تاہم جیسے ہی ٹرمپ نے غیر قانونی تارکینِ وطن بمقابلہ امریکی شہریوں کی حفاظت کی بات کی تو کئی ڈیموکریٹ ارکان نے خاموشی توڑ دی۔ اس پر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو پاگل قرار دیا اور ان پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے۔ اس ٹکراو نے پہلے سے ہی منقسم امریکی سیاست میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔