نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پیر کو کہا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملے میں سابق فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے کی لکھی کچھ باتیں لوک سبھا میں کہنا چاہتے تھے لیکن اس سے حکومت خوفزدہ ہے اور انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے مسٹر راہل گاندھی نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہاکہ "مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ مجھے صرف 2-3 لائنیں بولنی ہیں۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ یہ سابق فوجی سربراہ کے الفاظ ہیں۔ یہ ان کی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوئی گفتگو کے اقتباسات ہیں۔ میں ایوان میں کہنا چاہتا ہوں کہ سابق فوجی سربراہ نے کیا لکھا ہے اور مسٹر راج ناتھ سنگھ اور مسڑ مودی نے انہیں اس وقت کیا ہدایات دی تھیں۔ میں یہی بات پارلیمنٹ میں کہنا چاہتا ہوں لیکن پتہ نہیں یہ کیوں ڈرے ہوئے ہیں۔"
انہوں نے کہاکہ "میں پارلیمنٹ میں بولنا چاہتا ہوں لیکن پتہ نہیں یہ کیوں ڈرے ہوئے ہیں۔ وزیرِاعظم اور وزیرِ دفاع نے اس وقت کیا کہا تھا، وہی سچ اس میں ہے۔ ملک کے رہنما کو فیصلہ لینے سے نہیں بھاگنا چاہیے اور اس صورتحال میں فیصلہ فوج یا کسی اور پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔"
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے بھی اسی مسئلے پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ "وہ ایک لائن سے ڈرتے ہیں۔ اس میں ایک لائن ہے جس سے وزیرِاعظم مودی اور وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ دونوں خوفزدہ ہیں۔"