نیشنل ڈیسک: دبئی کے چمکتے بازاروں میں سونا صرف زیور نہیں، بلکہ سرمایہ کاری اور شوق کا سنگم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں ہندوستانی وہاں سے لوٹتے وقت اپنے بیگ میں کچھ چمکتی یادیں - یعنی گولڈ جیولری - لے کر آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر چمک قانونی نہیں ہوتی۔ ہندوستان میں سونا لانے کے قواعد اتنے سخت ہیں کہ ذرا سی غلطی بھاری پڑ سکتی ہے - جرمانہ، ضبطی اور یہاں تک کہ جیل تک کا راستہ کھل سکتا ہے۔
کتنی مقدار میں سونا لایا جا سکتا ہے بغیر ٹیکس دیے؟
ہندوستان لوٹنے والے مسافروں کے لیے ٹیکس فری سونے کی حد ان کی عمر اور جنس کی بنیاد پر مقرر ہوتی ہے۔
مرد مسافروں کو زیادہ سے زیادہ 50,000 قیمت تک کے 20 گرام سونے کے زیورات کی اجازت ہے - وہ بھی بغیر کسی کسٹم ڈیوٹی کے۔
خواتین مسافروں کو تھوڑی زیادہ راحت دی گئی ہے - وہ 1 لاکھ تک کی قیمت والے 40 گرام سونے کے زیورات ہندوستان لا سکتی ہیں۔ جبکہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بھی 40 گرام تک کی چھوٹ ہے، بشرطیکہ وہ اپنے ساتھ آنے والے سرپرست کے ساتھ رشتہ ثابت کر سکیں۔ دھیان رہے - یہ چھوٹ صرف جیولری تک محدود ہے۔ اگر آپ سونے کی اینٹیں، بسکٹ یا سکے لے کر آتے ہیں، تو اس پر پورا مقررہ کر دہ ٹیکس (کسٹم ڈیوٹی) دینا لازمی ہوگا۔
کن مسافروں کو ملتی ہے یہ چھوٹ
یہ ٹیکس فری سہولت ہر کسی کو نہیں ملتی۔ اس کا فائدہ صرف ان مسافروں کو ہے جو کم از کم ایک سال بیرونِ ملک میں رہ چکے ہوں۔ اس کا مقصد ان ہندوستانیوں کو راحت دینا ہے جو لمبے عرصے کے بعد وطن لوٹ رہے ہیں اور اپنے ساتھ کچھ زیورات ذاتی استعمال کے لیے لانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ مقررہ حد سے زیادہ سونا لاکر آنا چاہتے ہیں، تو ہوائی اڈے پر اس کی اطلاع کسٹم حکام کو دینا ضروری ہے۔ اعلان کیے بغیر سونا لانا غیرقانونی ہے۔
مقررہ حد سے زیادہ سونا لانے پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا
اگر آپ زیادہ مقدار میں سونا لے کر آتے ہیں، تو اس پرمقررہ کردہ پورا ٹیکس دینا پڑے گا۔ موجودہ قواعد کے مطابق، سونے کے درآمد پر مجموعی ٹیکس اور فیس 38.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ یعنی ظاہر کرکے لانا قانونی ہے، لیکن چھپاکر لانا بھاری نقصان میں بدل سکتا ہے۔
قواعد توڑے تو کیا سزا ہو سکتی ہے؟
اگر کوئی شخص مقررہ حد سے زیادہ سونا بغیر اعلان کیے ہندوستان لاتا ہے اور پکڑا جاتا ہے، تو نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ کسٹم افسران ایسے سونے کو ضبط کر سکتے ہیں اور اس کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ کا جرمانہ لگا سکتے ہیں۔ ہندوستانی کسٹم ایکٹ، 1962 کے تحت یہ جرم ہے، اور اگر سونے کی قیمت 1 لاکھ سے زیادہ پائی جاتی ہے، تو 7 سال تک کی قید کا انتظام ہے۔ اگر یہ معاملہ منظم اسمگلنگ یا بار بار کے جرائم سے منسلک ہو، تو ہندوستانی فوجداری ضابطہ 2023 کے تحت عمر قید اور 5 لاکھ تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔